خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 146
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 146 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء اف! اے رحیم و کریم آقا! اے محبت اور پیار اور غفران کے بحر بے کراں ! اے وہ کہ جس کی رحمت اور بخشش حدود کی قیود سے آزاد ہیں، ہاں اے کرم خاکی کو سینے سے لگانے والے! اپنے عاجز اور ذلیل اور حقیر بندوں کو اس پیار اور اس شان سے نوازنے والے! اے رفیع الشان ربنا الاعلیٰ ! اے سب پیاروں سے بڑھ کر پیارے! اے جان بخش آقا ابتا کوئی کیسے تجھ پر، کوئی کیسے تجھ پر جان نچھاور کرے!! آئیے اب ہم تیسرے درجے کے عباد کے حالات پر نظر کرتے ہیں جو حقیقی معنوں میں عباداللہ ہیں اور دیکھتے ہیں کہ خدائے قریب و مجیب کیسے کیسے پیار کے ساتھ ان کے قریب ہوا اور کس کس شفقت اور رحمت اور کریمانہ نوازشات کے ساتھ ان کی تضرعات کو سنا اور کس طرح اپنے آسمان سے خودان کی دنیا میں اتر آیا اور انہی کے قلوب اور سینوں کو اپنا عرش بنا لیا۔یہی وہ حقیقی عباداللہ ہیں جن کے حق میں قبولیت دعا کے تمام وعدے اپنی تمام شان کے ساتھ پورے ہوئے اور یہی وہ حقیقی بندگان خدا ہیں جنہیں ان کا رب بڑے پیار کے ساتھ بھی تو عبادالرحمن کے محبت بھرے القاب کے ساتھ یاد فرماتا ہے اور کبھی عباد الله المخلصین کہہ کر ان کا ذکر کرتا ہے۔پھر یہی وہ حقیقی عباد ہیں جن کی وفا اور بندگی پر ناز کرتے ہوئے ان کا رب تمام طاغوتی طاقتوں کے سرغنے کو یہ پوری شوکت کے ساتھ چیلنج دیتا ہے: وَاسْتَفْزِزُ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَاجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكُهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدُهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَنُ إِلَّا غُرُورًا إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلًا (بنی اسرائیل: ۶۵ - ۲۶) اور ہم نے کہا کہ اے شیطان ! جا ان میں سے جس پر تیرا بس چلے اسے اپنی آواز سے فریب دے کر اپنی طرف بلا اور اپنے سواروں اور پیادوں کو ان پر چڑھا لا اور ان کے مالوں اور اولادوں میں ان کا حصہ دار بن اور ان سے جھوٹے وعدے کر اور پھر اپنی کوششوں کا نتیجہ دیکھ۔شیطان جو بھی وعدے کرتا ہے فریب ہی کی نیت سے کرتا ہے لیکن سن کہ جو میرے بندے ہیں اُن