خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 145 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 145

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 145 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء ارتکاب کے باوجود یہ بد بخت انسان، یہ خدا کی ہستی کا مذاق اڑانے والا اور اسے اپنی فانی اور مجازی مملکت سے بزعم خود نکال باہر کرنے والا نمرود بھی جب خود ایسی مصیبتوں میں گرفتار ہو جاتا ہے جو اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں اور اس کی کشتی پہاڑوں کی طرف بلند لہروں اور تہ و بالا کر دینے والی خوفناک اور تند ہواؤں کے تھپیڑوں سے عدم اور وجود کے درمیان ہچکولے کھانے لگتی ہے اور اس کی فطرت میں سویا ہوا الَستُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى ( آل عمران : ۳۷۱) کا افسانہ جاگ اٹھتا ہے اور وہ بے اختیار اپنے اس رب کو پکارتا ہے تو سنو کہ خدا گواہ ہے اور خدا کا کلام گواہ ہے کہ بسا اوقات اس کے حق میں بھی تُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ (النمل: ۳۶) کا وعدہ پورا ہوتا ہے اور آسمان سے اس کی بدنی نجات کا فرمان اترتا ہے۔پس بتاؤ کہ اس فرضی ماں کے سوا جس کا سر بچے کی ٹھو کر پر بے قرار ہوا تھا کیا ہے کوئی ماں جو اس مشفق و مهربان خدا سے زیادہ علم اور عفو اور بے پناہ شفقت کے نمونے دکھا سکے؟ نہیں نہیں، کوئی نہیں کوئی نہیں، کوئی نہیں۔وہ تو سب رحمتوں اور سب برکتوں کا سرچشمہ ہے۔خدا کی قسم ماؤں کی چھاتیوں نے رحمت کا دودھ اس بحر رحمانیت کے گھاٹ سے بھرا اور سب حلم اور عفو کا سلوک کرنے والوں اور اسی کا حلم اور عفو کے بے کنار سمندر سے جود و کرم کا پانی پیا۔سب کریم اور جو اداور سب بخشش اور عطا کرنے والے اسی کے در کے بھکاری اور سوالی اور اسی کے صفات حسنہ کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں۔اس سے بڑھ کر در گز کوئی نہیں۔نہ دوست، نہ عزیز و اقارب، نہ ماں، نہ باپ۔اس سے زیادہ پیار کرنے والا اور مصیبتوں میں گھرے ہوئے کی التجائیں سنے والا اور کوئی نہیں کوئی نہیں جو مسلسل انکار اور عصیان اور ناشکری اور اعراض کے بعد کس طرح اپنے تائب بندوں کو رحمت کی گود میں بٹھالے کہ گویا کبھی کچھ نہ ہوا تھا۔وہ انہیں گود میں بٹھائے اور محبت اور پیار کی باتیں ان سے کرے اور سینے سے لگاتے ہوئے کہے کہ اے میری رحمت کی گود میں بیٹھنے والے! میں تو کب سے تیرا منتظر تھا۔دیکھ میری آغوش تیرے لئے وا ہے اور دیکھ میں تیری راہ اس طرح دیکھتا رہا جیسے پیتے ہوئے صحرا میں دو پہر کو ستانے والا مسافر جس کی پانی اور زادراہ سے بھری ہوئی اونٹنی گم ہو جائے اور وہ اس کی واپسی کی راہ دیکھ رہا ہو۔پھراے میرے بندے ! میں تیرے چلے آنے سے ایسا خوش ہوں جسے وہ پیار سے تڑپتا ہوا مسافر اچانک اپنی اس گمشدہ اونٹنی کو پالینے کے بعد۔(مسلم کتاب التوبہ باب فی الحض على التوبة والفرح بھا)