خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 144
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 144 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء پکارتا ہے پھر جب ہم اس کی تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہیں تو وہ اس طرح سے کترا کر گزر جاتا ہے گویا اس نے کسی تکلیف کے دور کرنے کے لئے جو اسے پہنچی تھی ہمیں پکارا ہی نہ ہو۔اسی طرح تمام حد سے بڑھ جانے والوں کو جو کچھ وہ کیا کرتے ہیں خوبصورت کر کے دکھلا دیا گیا ہے۔پس کیا ہی عجیب ہے ہمارا رب مجیب کہ جب اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ کی شان میں ظاہر ہوتا ہے تو بسا اوقات ایسے بے وفا اور ظالم اور فسق و فجور میں ڈوبے ہوئے عاصی بندوں کی دعا بھی سن لیتا ہے کہ جن کا ماضی بھی یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ عباداللہ کی فہرست میں داخل نہیں اور مستقبل بھی یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ عباداللہ کی فہرست میں داخل نہیں۔ہاں حال کے عارضی اور بال کی طرح باریک رشتے پر نظر کرم فرماتے ہوئے ان کے حق میں بھی قبولیت دعا کا وعدہ پورا کیا جاتا ہے۔انسان کی اس ناشکری اور اللہ تعالیٰ کی اس شان کریمی اور عفو کو دیکھ کر اس بد بخت لڑکے کا قصہ یاد آجاتا ہے جس نے اپنی بیوی کی باتوں میں آکر اپنی ماں کا سر قلم کر دیا تھا۔کہتے ہیں کہ جب وہ یہ کٹا ہوا سرطشتری میں لگا کر بیوی سے اس کارنامے کی داد لینے کے لئے جار ہا تھا تو راستے میں اسے ٹھوکر لگی اور طشتری سمیت زمین پر اوندھے منہ جا گرا۔اس وقت اچانک اس ماں کے کٹے ہوئے سر کے منہ سے ایک دردناک چیخ نکلی کہ ہائے میرے بچے ! تجھے چوٹ تو نہیں لگی۔آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں کہ یہ محض ایک قصہ ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی اس سے کہیں زیادہ ناشکری کرتا ہے اور گو خدا تعالیٰ کی عالی ہستی کو براہ راست گزند پہنچانے کی یہ حقیر کیڑا مقدرت اور مجال نہیں رکھتا مگر مقدور بھر کوشش اس امر کی ضرور کرتا ہے کہ اس لاشریک محسن کے نام تک کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالے۔کتنے ہی نمرود اس دنیا میں پیدا ہوئے اور کتنے ہی فراعین نے أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى (النازعات:۵۲) کا دعویٰ کیا انسانیت کی تاریخ ایسی ناشکری اور احسان فراموشی کی کر یہ المنظر وارداتوں سے بھری پڑی ہے اور آج بھی ان میں داغ داغ اضافہ ہورہا ہے۔اس فرضی قصہ میں ماں کا سر کاٹنے والے بچے نے تو ایک ایسے محسن کا سر کاٹا تھا جس کے احسانات محض معمولی اور گنتی کے چند احسان تھے۔انسان اپنے جس محسن کے وجود کو دنیا سے مٹانے کے در پے ہے اور دنیا کے عظیم خطے سے بظاہر ملک بدر کر بیٹھا ہے اس کے احسانات کا نہ تو شمار مکن ہے نہ ان کی قطار کی طوالت کا بیان ممکن لیکن حیرت ہے کہ احسان فراموشی کی اس انتہائی کر یہہ