خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 142
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 142 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء دکان داروں کا کوئی اتا پتا نہیں اور شہر خاموش اور سنسان پڑا ہے، ہر انسانی ضرورت کی ہر چیز وہاں موجود ہے مگر بنانے والا کوئی نہیں اور کوئی نہیں جو ان کی نگرانی کرے یا گاہک کے سوالات کا جواب دے۔یہ دنیا کہیں ویسا ہی شہر خموشاں تو نہیں جس کا خالق ہر چیز پر اِنِّي قَرِيبٌ کی مہر لگا کر آپ کہیں عرش معلیٰ کی رفعتوں میں روپوش ہو چکا ہو اور یہ سمجھ کر کہ بندے کی ضرورتیں تو سب پوری کر چکا اس کے انفرادی دکھ سکھ اور ثواب و گناہ سے ہمیشہ کے لئے بے نیاز ہو گیا ہو؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہمارا خالق ہم سے کبھی ایک لمحے کے لئے بھی جدا نہ ہوا ہے نہ ہوگا اور اس کا ہم سے تعلق محض تخلیق کامل کے واسطے ہی سے نہیں بلکہ ہر متلاشی حق کو وہ ایک زندہ و موجود اور قادر وتوانا ہستی کے طور پر مل سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ تعلق کے اس نئے میدان میں بھی طلب اور مطلوب کا وہی قانون لاگو ہوگا جو اس سے پہلے دور پر لاگو تھا اور جس طرح مادی دنیا میں اپنے خالق کی تلاش اور اس سے فیض یاب ہونے کے لئے مسلسل جستجو اور خلوص اور انتھک محنت کی ضرورت تھی اسی طرح اپنے خالق کو ایک زندہ اور متکلم ہستی کے طور پر پانے کے لئے بھی انہی خصائل کا ہونا ضروری ہے۔کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ مادی دنیا میں طلب کا ہاتھ پھیلانے والے کیسی کیسی محنتیں کرتے اور مشقتیں اٹھاتے ہیں اور سائنس دانوں کی دنیا کیسی سخت جانی اور کاوش کی دنیا ہوتی ہے؟ اسی طرح بعض اوقات صفت رحمانیت کے ظہور کے طور پر خدا تعالیٰ اپنے ایسے مضطر بندوں کی التجائیں بھی قبول فرما لیتا ہے جو عام حالات میں تو اپنے رب سے کوئی رشتہ بندگی نہیں جوڑتے اور سخت غفلت اور بے پرواہی کی زندگی بسر کرتے ہیں مگر جب اندھیرے ان کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں اور موت بے نقاب ہو کر ان کی طرف ہر سمت سے بڑھتی ہے تو اس وقت انہیں اپنے رب کے تصور میں دور کی ایک امید اور روشنی کی ایک کرن دکھائی دیتی ہے اور وہ اسے مضطر بانہ اپنی مدد کے لئے پکارتے ہیں حالانکہ قبل ازیں ان کی زندگیوں کی دلچسپیوں میں اس خدا کا کوئی وجود نہ تھا۔تب اللہ تعالیٰ بغیر کسی استحقاق کے محض فضل کے طور پر ان کی بھی دعاؤں کوسنتا اور قبول کرتا ہے لیکن جیسا کہ ان کا یہ رجوع الی اللہ ، بندگی کا تعلق عارضی اور اتفاقی ہوتا ہے اسی طرح قبولیت دعا کا وعدہ بھی ان کے حق میں اتفاقی واقعات طور پر رونما ہوتا ہے اور جس طرح یہ بے وفا بندے اپنی جسمانی نجات کے بعد اپنے رب کو پھر بھلا دیتے ہیں اسی طرح ان کا رب بھی انہیں فراموش کر دیتا ہے اور بندگی کی فہرست