خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 139

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 139 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء مخلوق خدا ہونے کا تعلق ہے شرقی غربی، کالے گورے سبھی اللہ تعالیٰ ہی کے بندے ہیں۔چنانچہ اس پہلو سے آنحضرت کو ارشاد ہے کہ اگر میرے بندے میرے بارے میں تجھ سے سوال کریں کہ میں کہاں ہوں تو ان کا یہ سوال تعجب انگیز ہے کیونکہ میں تو ہر آن اپنی تخلیق کے پردے میں جلوہ گر ہوں اور ہر لحظہ اپنے ہر بندے کے قریب ہوں۔بصارت کی آنکھ سے کوئی دیکھنا چاہے تو اپنے ماحول میں، اپنے گردو پیش میں، اپنے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے مجھے قریب دیکھے گا۔اس پہلو سے قریب کا مفہوم بھی ابتدائی اور عام ہے اور اس میں وہ روحانی اور حقیقی قرب مراد نہیں جو حقیقی عباداللہ کو اپنے رب کے ساتھ نصیب ہوتا ہے۔اسی ابتدائی مگر عام رویت الہی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ علامہ اقبال کے ایک شعر کے جواب میں فرماتی ہیں: تیری آنکھ میں میرا نور ہے مجھے کون کہتا ہے دور ہے مجھے دیکھتا جو نہیں ہے تو یہ تیری نظر کا قصور ہے مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تیری جبین نیاز میں مجھے دیکھ رفعت کوہ میں مجھے دیکھ پستی کاہ میں مجھے دیکھ عجز فقیر میں مجھے دیکھ شوکت شاہ میں نہ دکھائی دوں تو یہ فکر کر کہیں فرق نہ ہو نگاہ میں مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تیری جبین نیاز میں مجھ ڈھونڈ دل کی تڑپ میں تو مجھے دیکھ روئے نگار میں کبھی بلبلوں کی صدا میں سن کبھی دیکھ گل کے نکھار میں میری ایک شان خزاں میں ہے میری ایک شان بہار میں مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تیری جبیں نیاز میں ( در عدن صفحه : ۷۱، ۷۲ ) دوسرا درجہ عباد کا وہ ہے جو عموما تو اپنے رب سے سخت غفلت اور بے پروائی کا معاملہ کرتا ہے