خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 11

تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 11 وقف جدید کی اہمیت ۰۶۹۱ ء ہمارے مقدر میں لکھا گیا ہے یا احمدیت کے مقدر میں لکھا گیا ہے اگر ہماری رفتار یہی رہی ، اگر ہمارے اطوار یہی رہے ، اگر ہم نے اپنے اعمال کی نگرانی اسی طرح کی جس طرح اس وقت تک ہوتی رہی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ اس کے طور کو بدلیں ، ہم اپنے طریق کو بدلیں اور ایک ایسا ٹھوس دیہاتی تربیت کا نظام جاری کریں جو ہمارے افراد کو صحیح معنوں میں مسلمان بنائے۔ہماری جماعت حقیقت میں جیسا کہ حضرت میاں شریف احمد صاحب کی نظم میں آپ نے سنا ہے حقیقت میں بہت ہی تھوڑی ہے۔اتنی تھوڑی ہے کہ آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے ہیں کہ کتنی تھوڑی ہے۔لاکھوں لاکھ کی جماعت میں سے اس وقت تک صرف سترہ ہزار آدمی چندہ دے رہے ہیں۔دس بارہ لاکھ سے کم نہیں ہیں ہم پاکستان میں اور صرف سترہ ہزار چندہ دے رہے ہیں اور سترہ ہزار میں سے صرف چند ہی ہوں گے یا میں سمجھتا ہوں کہ میں چالیس فی صدی سے زیادہ نہیں ہوں گے جو پورا اپنی نسبت کے مطابق چندہ دیتے ہیں۔تو یہ حالات قابل غور ہیں معمولی بات نہیں۔ہمارے پہ بوجھ ہے دس لاکھ جماعت کا، توقع ہم سے یہ کی جاتی ہے کہ ہم دس لاکھ کا کام کریں گے لیکن عملاً ہم میں سے صرف چند ہزار کام کر رہے ہیں۔تو تحریک وقف جدید خدا کے فضل سے اس لحاظ سے بھی کامیاب ثابت ہو رہی ہے اس کے ذریعہ ہمارے چندے بڑھ رہے ہیں اور وہ دیہات جہاں سے کبھی کوئی چندہ ادا نہیں ہوا تھا۔وقف جدید کے معلم کے جانے کے بعد خدا کے فضل سے وہ بھی با قاعدہ چندہ دہندہ بن گئی ہے۔بعض لوگ یہ کہتے ہیں اور بعض صاحب حیثیت دوست بھی یہ کہتے ہیں کہ وقف جدید کا چندہ تو صرف چھ روپے ہے حضور نے چھ ہی کی تحریک کی تھی پس ہم نے یہ چندہ ادا کر دیا اور ہم اس فرض سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔اور آپ حیران ہونگے کہ وقف جدید کا چندہ دینے والے جو پچاس روپے سے زائد چندہ دیتے ہیں صرف سنتر (۷۷) ہیں اس لاکھوں کی جماعت میں اور ایسے افراد جو پانچ سو سے زائد چندہ دیتے ہیں وہ صرف آٹھ ہیں اور ایسے افراد جن کا چندہ ایک ہزار روپے سے زائد ہے وہ اس ساری بھر پور جماعت میں صرف دو ہیں۔ایک کراچی کے شیخ عبدالحفیظ صاحب اور ایک لاہور کے چوہدری فتح محمد صاحب ہری کے ٹرانسپورٹ والے۔تو یہ حالت تسلی بخش نہیں اور جب بھی دوست چھ پر زور دیتے ہیں تو مجھے وہ لطیفہ یاد آ جاتا ہے۔کہتے ہیں کہ ایک میراثی اور ایک چوہدری نے اکٹھا سفر کیا کشتی پر وہ جارہے تھے۔میراثی کھودا تھا اس کی داڑھی پر صرف دو چار بال تھے اور چوہدری کی