خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 136

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 136 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء حال اس طرح کہ آپ کی دعائیں شب و روز اس طرح قبول ہو رہی تھیں جیسے بارانِ رحمت برس رہی ہو اور اپنے اثر میں اتنی وسیع تھیں کہ لاکھوں کروڑوں قبولیت دعا کے گواہ آپ کے اپنے زمانے میں پیدا ہوئے اور ان کے دلوں نے لاریب کے نعرے لگائے۔مستقبل اس طرح کہ آپ نے اپنی دعاؤں کے ایسے عظیم الشان ثمرات آئندہ نسلوں کو فیض پہنچانے کے لئے پیچھے چھوڑے جنہوں نے زمین کے کناروں تک شہرت پائی اور اطراف عالم نے زبان حال سے گواہی دی کہ ہاں اے محمد ﷺ کی دعاؤں کے ثمره ! دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ضروری ہوتی ہیں اور ضرور ہوتی ہیں۔جہاں تک فلسفہ دعا کا تعلق ہے آپ نے اس مشکل مسئلے کو آسان اور عام فہم کر کے دکھا دیا اور اس زمانے کے خشک فیلسوفوں کی طرف سے وارد ہونے والے ہر اعتراض کا شافی جواب دیا۔میرا آج کا مضمون حضور اقدس علیہ السلام کے فرمودات کی ہی خوشہ چینی ہے چنانچہ اس کا آغاز حضور ہی کے الفاظ سے کرتا ہے۔حضور فرماتے ہیں: ایک بچہ جب بھوک سے بے تاب اور بے قرار ہو کر دودھ کے لئے چلاتا اور چیختا ہے تو ماں کے پستان میں دودھ جوش مار کر آجاتا ہے حالانکہ بچہ تو دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن یہ کیا سبب ہے کہ اس کی چھینیں دودھ کو جذب کر لاتی ہیں۔یہ ایک ایسا امر ہے کہ عموماً ہر ایک صاحب کہ اس کا تجربہ ہے۔بعض اوقات ایسا دیکھا گیا ہے کہ مائیں اپنی چھاتیوں میں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتی ہیں اور بسا اوقات ہوتا بھی نہیں ہے لیکن جو نہی بچہ کی درد ناک چیخ کان میں پہنچی فوراً دودھ اتر آیا ہے۔“ (احکم جلد ۵ نمبر ۲۴ مورخه ۱۲ راگست ۱۹۰۱ صفحه ۳) اس کی چھینیں دودھ کو کیوں کر کھینچ لاتی ہیں اس کا ہر ایک کو تجربہ ہے۔بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ مائیں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتیں مگر بچے کی چلا ہٹ ہے کہ دودھ کو کھینچ لاتی ہے تو کیا ہماری چیچنیں جب اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں تو وہ کچھ بھی کھینچ نہیں لاسکتیں ، آتا ہے سب کچھ آتا ہے مگر آنکھوں کے اندھے جو فاضل اور فلاسفر بنے بیٹھے ہیں وہ دیکھ ہی نہیں سکتے۔بچے کی جو مناسبت ماں سے ہے اس تعلق اور رشتے کو انسان اپنے ذہن میں رکھ کر اگر دعا کی فلاسفی پر غور کرے تو بہت آسان اور سہل معلوم ہوتی ہے۔