خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 135
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 135 فلسفہ دعا ۸۶۹۱ء فلسفه دعا ( بر موقع جلسہ سالانہ ۱۹۶۸ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے کہ دنیا ہی کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی اکثریت بھی دعا سے غافل ہو چکی تھی اور وہ جو بظاہر دعا کے قائل نظر آتے تھے وہ بھی اس کے فلسفہ اور بار یک حکمتوں کا بہت کم علم رکھتے تھے یہاں تک کہ مسلمانوں ہی میں ایک ایسا گروہ بھی پیدا ہوا جو دعا کی تاثیر اور قوت ہی سے منکر ہو چکا تھا اور اسے ایسا بے حقیقت جانتا تھا کہ گویا دعا اپنی طاقت میں ہوا کے ایک خفیف جھونکے سے بھی کمزور تر ہے اور ایک خزاں رسیدہ پتے کو بھی ہلانے کی طاقت نہیں رکھتی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طبقے کو ایک ایسا چیلنج دیا جو قارعة کا حکم رکھتا تھا اور بار بار ان کی عقلوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہوئے فطرت انسانی کو اس امر پر گواہ ٹھہرایا کہ بندے اور رب کے درمیان دعا کا تعلق ایک ثابت شدہ حقیقت ہے جسے قبول کئے بغیر ایک سلیم العقل انسان کے لئے چارہ کار نہیں۔پھر اس نظریاتی بحث پر ہی اکتفانہ فرمائی بلکہ اپنے وجود کو ایک زندہ ثبوت کے طور پر پیش کیا۔یہ ایک ایسا وجود تھا جس کا ماضی، حال اور مستقبل اور تمام گردو پیش قبولیت دعا کے حق میں گواہی دے رہے تھے۔ماضی اس طرح کہ آنحضور کی ان دعاؤں کا آپ شمرہ تھے جن کے نتیجے میں اسلام کو چودھویں صدی کے سر پر مذاہب غیر پر غالب کرنے والا ایک عظیم الشان سپہ سالا رعطا ہونا تھا۔