خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 132
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 132 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء خدا گواہ ہے کہ اب دنیا کی نجات احمدیت کی ان قربانیوں کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہے ان پیسوں کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہے، جو معصوم بچوں نے اپنے خالق کے حضور پیش کئے۔ان جھومروں اور ان کنگنوں کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہے۔جو پاک دامن احمدی خواتین نے محض اس لئے اتار دیئے کہ ان کی فروخت سے مغرب کے بت خانوں میں مسجد میں تعمیر ہوں اور خدائے واحد کی پرستش کی جائے۔ہاں اے ابنائے آدم ! آج تمہاری نجات ان زندگیوں سے وابستہ ہو چکی ہے جو ہزارہا احمدی نو جوانوں اور بوڑھوں نے تمہیں اپنے رب کی طرف واپس لوٹانے کی خاطر دین محمدی کی نذر کر دیں۔ان مجاہدین احمدیت سے وابستہ ہو چکی ہے جو تبلیغ اسلام کی خاطر اپنے گھروں سے نکلے اور گھروں کے آرام کو پیچھے چھوڑ دیا۔جوان بیویوں، بوڑھے ماں باپ اور چھوٹے بچوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور دور دراز ممالک کو روانہ ہوئے تا کہ بنی آدم کو پیشگی کے امن یعنی دین اسلام کی طرف آنے کی دعوت دیں۔بعض ان میں سے ایسے تھے جو غیر ممالک ہی میں راہ جہاد میں خدا کو پیارے ہوئے اور مڑ کر وطن اور اہل وطن کی صورت نہ دیکھ سکے اور بعض ان میں سے ایسے تھے جو اتنی دیر کے بعد اس حال میں وطن کو لوٹے کہ ان کے بوڑھے ماں باپ اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور ان کی جوان بیویاں بوڑھی ہو چکی تھیں اور ان کے بالوں کی سیاہی میں بڑھاپے کی سفیدی پھر گئی تھی۔بیویوں نے خاوندوں کے بغیر اور بچوں نے باپوں کے بغیر زندگی کی تلخیاں برداشت کیں اور کرب ناک بیماریوں میں انہیں یاد کیا اور ایسا ہوا کہ سینکڑوں عورتوں نے اپنے خاوندوں کی زندگی میں ہی ایک بیوگی کی سی بد حالی کو اپنے لئے قبول کیا اور ہزار ہا بچے اپنے باپوں کی زندگی میں یتیموں کی طرح رہنے لگے۔یہ افسانے نہیں حقیقتیں ہیں۔آسمان کا خدا گواہ ہے کہ یہ حقیقتیں ہیں۔یہ وہ حقیقتیں ہیں ، جو احمدیت دنیا کی نجات کے لئے کفارہ کے طور پر اپنے رب کے حضور پیش کر رہی ہے۔ہاں یہ درد کی چادروں میں لپٹی ہوئی وہ بشارتیں ہیں، جو احمدیت نے دنیا کو عطا کیں۔کاش دنیا ان حقیقتوں کو سمجھے اور ان بشارتوں کو قبول کرے اوراے کاش ! دنیا اس خدائے واحد کی طرف لوٹ آئے اور اس یکتا رسول احمد مرسل کو قبول کرے۔جس کی چار دیواری سے باہر کوئی جائے امن نہیں۔اے کاش! دنیا ہلاکتوں کے اس تاریک دور میں غلام احمد کی اس آواز کو سنے کہ