خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 128

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 128 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء قط کی ہدایت کے دعویدار پھولوں کی سیج پر چل کر روحانی انقلاب بر پا نہیں کیا کرتے۔وہ وقت یاد کرو جب ایک خیر امت، بنی نوع انسان کی بہبود کی خاطر آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت کے پروں تلے پرورش پا کر تیار ہوئی اور رحمت کا پیغام لئے ہوئے بنی نوع انسان کی طرف نکلی۔اس راہ میں انہوں نے کیسے کیسے دکھ اٹھائے اور کتنی طویل اور مسلسل اور شاندار قربانیاں دیں۔پس محض ایک کامل نظام کی موجودگی سے دنیا فیض نہیں پاسکتی جب تک اس نظام کے نفاذ کے لئے بے مثل قربانیاں دینے والے کچھ بے نفس بندے بھی دنیا کو عطانہ ہوں۔احمدیت نے یہ بے نفس بندے بھی دنیا کو عطا کئے۔سیہ وہ بے نفس بندے ہیں، جنہیں اس زمانہ میں بنی آدم کی بہبود کے لئے نکالا گیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو بے دریغ اپنے عزیز مال کو ایک بلند مقصد کی خاطر لٹا ر ہے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں ، جو اپنی قیمتی جانیں ایک عظیم الشان مح نظر کی خاطر قربان کر رہے ہیں۔یہ ایک نہایت حیرت انگیز مالی اور جانی قربانی کا نظام ہے جس کی نظیر دنیا کے پردے پر اس وقت اور کوئی نہیں اور جس کی مثل ڈھونڈنے کے لئے نظر کو چودہ سو برس قبل کے زمانہ کی طرف لوٹنا پڑتا ہے۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ہر انجمن اور ہر تنظیم کی رگوں میں ان بندگان خدا کی قربانیوں کا منزہ خون دوڑ رہا ہے۔یہ روپیہ جو پانی کی طرح اسلام کے احیائے نو کے لئے اور دنیا کو دین محمدی کی طرف بلانے کے لئے بہایا جا رہا ہے اور یہ جانیں جو خدمت دین کے لئے بھیڑ بکریوں کی طرح قربان کی جارہی ہیں ان کی کہانی سننے کے لائق اور ان کی کیفیت دیکھنے کے قابل ہے۔ہر بالغ احمدی جو کچھ کمانے کی طاقت رکھتا ہے۔ان پابندیوں کے باوجود کہ نا جائز طریق سے کمائی کے سب راستے اس پر بند ہیں اور اس مالی تنگی کے باوجود جو اس کے نتیجہ میں اسے برداشت کرنی پڑتی ہے اپنی کمائی کا کم از کم ۱/۱۶ حصہ اور زیادہ سے زیادہ ۱/۳ حصہ صدرانجمن احمدیہ کی خدمت میں اس غرض سے پیش کرتا ہے کہ خلیفہ کی رہنمائی میں ، راہ خدا میں اسے خرچ کرے۔پھر جو اس کے پاس بچتا ہے وہ بھی سب اس کا نہیں ہو جا تا بلکہ غیر ممالک میں مذاہب غیر پر غلبہ اسلام کے لئے جو تبلیغی ادارہ تحریک جدید کے نام سے جاری کیا گیا ہے، اسے چلانے کی خاطر وہ اپنے بچے ہوئے مال میں سے ایک حصہ تحریک جدید انجمن احمدیہ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ ہو۔پھر اس کے بعد جو بیچ رہتا ہے وہ بھی سب اس کا نہیں ہو جا تا بلکہ اندرونِ ملک میں دیہاتی