خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 107

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 107 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء اس کھلے کھلے اعلان کے باوجو د لقائے الہی اور وحی والہام خداوندی کے منکر ہو گئے اور افسوس کہ اسلام کے حسن کی جان جس تصویر میں تھی۔اسی تصور کو مسخ کر دیا اور وصل الہی کی حقیقت کو جسے اسلام ایک زندہ اور دائمی حقیقت کے طور پر پیش کرتا تھا محض ایک قصہ اور افسانہ بنا دیا۔مسلمانوں کی یہ کیسی محرومی اور بد قسمتی تھی اور اسلام کے چہرے پر کتنا بد نما داغ تھا وہ مابہ الامتیاز نشان جو اسلام کو دوسرے تمام مذاہب سے ممتاز کرتا تھا ، وہ مابہ الامتیاز مٹا دیا گیا۔یہ امتیازی شان اسلام سے چھینی گئی کہ وہ محض وعدہ فردا پر جینے کے لئے نہیں بلکہ اسی دنیا میں بندوں کو اپنے رب سے ملانے کا وعدہ کرتا ہے۔افسوس کہ وہ مسلمان جو وصل الہی کے بغیر چین نہ پاتے تھے ان کی اولادیں خالی برتنوں پر راضی ہو گئیں اور ایک ایسے خدا کے تصور کو لے کر بیٹھ گئیں جو محض کتب تاریخ اور صحف ابراہیم و موسی میں زندہ تھا۔ان کے زعم میں آدم اور ابراہیم موسیٰ اور پھر عیسی اور پھر ان سب سے بڑھ کر محمد عربی علیہم السلام سے ہم کلام ہونے والا خدا اب ہمیشہ کے لئے خاموش ہو چکا تھا۔اب خواہ قیامت تک اس کے عاشق بندے درد جدائی سے بے قرار ہو ہو کر اسے پکارتے رہیں مگر اس کی طرف سے ان کی کسی پکار کا جواب نہ دیا جانا تھا۔صدافسوس !وہ مذہب جس کی رونق اور شادابی کا انحصار لقائے باری تعالیٰ پر تھا اور جس کا یہ دعویٰ تھا کہ اسلام اور صرف اسلام ہی وہ مذہب ہے جس پر چل کر انسان اس دنیا میں ہی اپنے رب کو پالیتا ہے ، خود اس مذہب کے پیروکاروں نے ہی اس سے یہ رونق چھین لی اور لہلہاتے ہوئے شاداب چمن کو جولقائے باری کے پھولوں سے سجا ہوا تھا ایک ویران اور بے شمر باغ میں تبدیل کر دیا۔افسوس که مسلمانوں ہی میں وہ رہنما بھی پیدا ہوئے جو افادیت دعا کے ہی منکر ہو بیٹھے۔تب اس انتہائی مایوسی کے دور میں قادیان کی گمنام بستی سے بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پر شوکت آواز بلند ہوئی اور آپ نے اہل اسلام کو یہ مژدہ بہار دیا کہ وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار براین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲ صفحه: ۱۱۳۷) آپ نے دنیا کو بتایا کہ اسلام کا خدا ایک زندہ اور لازوال طاقتوں کا مالک ہے۔اس کی ہر صفت