خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 8

تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 8 وقف جدید کی اہمیت ۰۶۹۱ء اترکر، میدانوں میں جدو جہد اور محنت کرنے کے بعد، راتیں جاگنے کے بعد اور خون کو پسینے کی طرح بہانے کے بعد کسی عربی شاعر کا مجھے یہ شعر یاد آ گیا کہ: ع مَنْ بَلَغَ الْعُلَى سَهَرَ اللَّيَالِي کہ بلندیوں تک پہنچا تو جایا کرتا ہے لوگ پہنچتے رہے ہیں پہلے بھی لیکن وہی لوگ بلندیوں تک پہنچا کرتے ہیں جو راتوں کو جاگ کر صبح کر دیا کرتے ہیں۔اس لئے راتوں کو جاگنے کا وقت ہے اور بڑی محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے تا کہ احمدیت اپنی پہلی سی روش پر دوبارہ گامزن ہو جائے۔وہی روش ہم اختیار کرلیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کی تھی۔وہی خلوص ہمارے دلوں میں پیدا ہو جائے وہی محبت ، وہی یگانگت ، وہ سب چیزیں جب تک ہم دوبارہ نہ لے لیں گے جب تک ہم انہیں سینے سے چمٹا نہ لیں گے ان خوبیوں کو جو صحابہ کے اندر ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں اس وقت تک احمدیت کی ترقی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔وقف جدید کی تحریک اسی کام کو جاری کرنے کے لئے اسی کام کو جماعت میں راسخ کرنے کے لئے جاری کی گئی ہے اس لئے یہ تحریک در اصل جماعت کی زندگی کے مترادف ہے۔جماعت کی زندگی اور وقف جدید کی زندگی آج ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اس لئے میں آپ سے پھر یہ درخواست کروں گا بڑے عجز سے یہ درخواست کروں گا اور یہ درخواست میں اپنے دل کی عمیق ترین گہرائیوں سے کر رہا ہوں کہ جد و جہد کیجئے ، جاں فشانی کیجئے ، کوشش کیجئے ، اپنی جماعتوں کو اس اعلیٰ معیار پر قائم کریں اور لے کر آئیں جو معیار روحانی جماعتوں کا ہوا کرتا ہے اور جب یہ معیار پیدا ہو جائے گا تو پھر احمدیت کی فتح میں اور زیادہ دیر نہیں ہوگی۔ہم خود ٹال رہے ہیں احمدیت کی فتح کا وقت۔ہم خود ٹال رہے ہیں اپنے ہاتھوں سے قادیان کی واپسی کا وقت۔ہمارا بوڑھا امام ہم میں بیمار ہے۔وہ امام جس نے راتیں ہمارے لئے جاگ کر کاٹیں ، وہ امام جس نے ساری عمر ہمارے لئے ہلاک کر دی ، وہ امام ہم میں بیمار ہے اور بوڑھا ہے اور قادیان کی محبت میں تڑپ رہا ہے اور بیقرار ہے۔اس امام کی چھینیں کل آپ نے یہاں سنی ہیں لیکن اس کے باوجود آپ کا دل نہیں ہل رہا۔اٹھیں اپنے دل کو ہلائیں اور افسانوی رنگ میں دل کو نہ ہلائیں ، اس طرح نہ روئیں جس طرح لوگ ناول اور قصے پڑھ کر رویا کرتے ہیں بلکہ اس طرح روئیں جس طرح مومن کے آنسو راتوں کو اٹھ اٹھ کر بہا کرتے ہیں۔اپنے