خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 102
نقار ی جلسه سالانه قبل از خلافت 102 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟۷۶۹۱ء چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا جار ہا تھ یہ وہ چہرہ نہ تھا جومحمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے یا پیش کئے ہوئے اسلام کا چہرہ تھا بلکہ ایک بگڑا ہوا غبار آلود چہرہ تھا جسے اس حسن سے کوئی نسبت نہ تھی جو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا۔غیروں کا تو کیا ذکر خود اپنوں ہی کی دست درازی کی کہانی بہت طویل اور دردناک ہے۔اسلام کے بنیادی تصورات اور عقائد ایک ایک کر کے تبدیل کئے گئے۔انبیائے گزشتہ کے تصورات بھی بگاڑ دیئے گئے اور بہت سی لغو اور نا پاک کہانیاں ان کی طرف منسوب کی جانے لگیں، فرشتوں کے وجود کو بھی من گھڑت قصوں کی زینت بنادیا گیا، توحید خالص اسلام میں باقی نہ رہی اور شرک عام ہو گیا۔ایک طرف تو خدا کی طاقتوں میں کمی کی جانے لگی اور اس کی قوت تکلم اس سے چھین لی گئی دوسری طرف نا چیز انسانوں کو بھی الہی صفات سے متصف کیا جانے لگا اور مردوں کو زندہ کرنے کی طاقتیں ان کی طرف منسوب کی جانے لگیں۔ایسے پیر ظاہر ہونے لگے جو جسے چاہتے بزعم خود لڑکیاں دیتے اور جسے چاہتے لڑکے عطا کرتے۔پھر اگر چاہتے تو کئی کو ان دونوں نعمتوں سے نوازتے تھے اور جسے کچھ عطا نہ کرنا چاہتے تھے اسے وہ بانجھ رہنے کا حکم دیتے تھے نعوذ باللہ۔خدا صفت یہ پیر پیدا ہوئے اور مر بھی گئے لیکن بعض مسلمانوں کے تصور میں ان کی یہ الہی صفات زندہ رہیں اور آج بھی زندہ ہیں۔چنانچہ ان کی قبریں حاجتمندوں کی زیارت گاہیں بنی ہوئی ہیں۔قدرت کے وہ نظارے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں خدا اور صرف خدا دکھاتا تھا آج سینکڑوں ہزاروں قبریں اور زیارت گاہیں ان کے زعم میں وہ نظارے دکھلا رہی ہیں۔وہ جبینیں جو خدا کے سوا کسی کے سامنے جھکنا نہ جانتی تھیں آج گلی سڑی ہڈیوں کو ڈھانپے ہوئے خاک کے تو دوں کو سجدے کرنے لگیں۔یہ سب کچھ ہوا اور اسلام اور روحانیت ہی کے نام پر ہوا۔پس یہ کیا عجیب زمانہ ہے کہ روحانیت اور شرک کے درمیان جن کا اکٹھے رہنا ناممکن تھا آج چولی دامن کا ساتھ ہو گیا اور ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے دونوں اسلام کا لبادہ اوڑھے کھڑے ہیں۔ایک طرف شرک سے آلود اسلام کی یہ تصویر ہے اور دوسری طرف تو حید اسلام کو اس رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے کہ گویا وہ ایک خالی برتن ہے جو کبھی روحانیت کے دودھ سے نہیں بھرا۔تو حید نام رکھا جارہا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشریت پر زور دینے کا اور توحید نام رکھا جا رہا ہے ظاہر پرستی اور خشک ملائیت کا۔آج تو حید نام ہے اس عقیدے کا کہ خدا زندہ تو ہے لیکن قوت تکلم سے عاری