خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 103
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 103 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء ہو چکا ہے اور کسی عبادت کرنے والے کی آہ و پکار کا جواب نہیں دیتا۔آج تو حید نام ہے اس عقیدے کا کہ دنیا میں لقائے باری تعالیٰ کا حصول ناممکن ہے اور خشک اور بے کیف عبادتیں ہی (جو خالی خولی قیام اور رکوع و سجود کے سوا کوئی قیمت نہیں رکھتیں) حاصلِ اسلام ہیں۔آج تو حید نام رکھ دیا گیا ہے، دلوں کی سختی اور نظروں کی خشونت کا اور جبر اور تلوار اور غیظ و غضب کا۔آج ایک ایسی بے حاصل اور بے شمر تو حید دنیا کے سامنے پیش کی جارہی ہے جو جذبات کی لذت سے عاری اور بنی نوع انسان کی ہمدردی سے خالی ہے جس کی بناء رحمت پر نہیں بلکہ غضب اور انتقام پر ہے اور جسے روحانی سرور اور کیف کا پھل نہیں لگتا۔ایک ایسی تو حید جو خدا کو ایک تو کہتی ہے مگر اس ایک خدا کے ایک جلوے سے انسانوں کو عمر بھر محروم رکھتی ہے جو محض یوم آخرت کے وعدے پر جینے کا حکم دیتی ہے اور اس فرمان الہی کو بھول جاتی ہے کہ (بنی اسرئیل: ۳۷) یعنی جو آنکھ اس دنیا میں اندھی ہوگی اور اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوگی وہ آخرت میں بھی اندھی اور دیدار سے محروم رہے گی۔پس یہ عجیب متضاد تصویریں ہیں اسلام کی جو کھینچی جارہی ہیں۔کہیں تو یہ نظارہ کہ بعد المشرقین رکھنے والے روحانیت اور شرک یک قالب و یک جان ہورہے ہیں اور کہیں یہ تماشا کہ توحید اور روحانیت جو کبھی باہم دگر جدا نہ ہوئے تھے ایسے ایک دوسرے کے دشمن ہوئے کہ ایک سینے میں سمانہیں سکتے۔صرف یہی نہیں ، بلکہ خالص تو حید کے وہ دعویدار جو اپنے تئیں تو حید کا واحد علمبر دار سمجھتے تھے خودان کے عقائد بھی شرک کی ملونی سے پاک نہ رہے۔چنانچہ ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کی بشریت پر حد اعتدال سے بڑھ کر زور دینے سے یہ سمجھا جانے لگا کہ توحید کا حق ادا ہو گیا اور دوسری طرف حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف خدائی صفات منسوب کرتے ہوئے ان کی طبیعت ذرا نہ ہچکچائی اور اس عقیدے پر پختگی سے قائم ہو گئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام دو ہزار برس سے اپنے جسم عنصری کے ساتھ بغیر کچھ کھائے پئے زندہ ہیں اور نہ اس دو ہزار سالہ زندگی نے انہیں ارذل العمر تک پہنچایا اور نہ بھوک ہی انہیں مار سکی۔پس اپنی اس غیر بشری صفت میں وہ انسانوں سے بالا تر اور خدا کے مشابہ ہو گئے۔یہی نہیں بلکہ ان کے آسمان پر جانے کا عقیدہ فی ذاتہ ایک مشرکانہ عقیدہ تھا چنانچہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کفار مکہ نے آسمان پر چڑھنے کا مطالبہ