خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 101
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 101 احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟۷۶۹۱ء احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ بر موقع جلسہ سالانہ ۱۹۶۷ء منعقدہ ۱۱، ۱۲، ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء) عموماً جماعت احمدیہ سے غیر از جماعت مسلمان یہ سوال کرتے ہیں کہ احمدیت نے دنیا کو کیا دیا ؟ اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اگر تو احمدیت نے اسلام میں کچھ تبد یلیاں کر دی ہیں اور دین محمدی کو بدل کر پیش کیا ہے تو ہمیں اس نئے مذہب سے کوئی دلچسپی اور علاقہ نہیں کیونکہ یہ ایک کھلی کھلی گمراہی ہے اور اگر احمدیت نے وہی اسلام ہمیں دیا جو پہلے ہی سے ہمارے پاس موجود ہے تو پھر احمدیت کو قبول کرنا یا نہ کرنا دونوں برابر ہیں۔اس سوال کے پہلے حصہ کا جواب تو یہ ہے کہ احمدیت نے اسلام یعنی حقیقی اسلام کے سوا دنیا کو کچھ اور نہیں دیا اور ایک شوشہ کی بھی تبدیلی دین اسلام میں نہیں کی۔دوسرے حصہ کا جواب مختصر آیہ ہے کہ احمدیت نے دنیا کو دیا تو فقط اسلام ہی لیکن وہ رائج الوقت اسلام نہیں دیا جو فرقہ درفرقہ بہتر مذاہب میں بٹ چکا تھا اور بہتر مختلف اور متضاد عقائد اور عبادت کے طریقوں پر مشتمل تھا بلکہ وہ اسلام دیا جو ایک دین واحد کے طور پر آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا اور ظاہر ہے کہ اول الذکر کو مؤخر الذکر سے کوئی نسبت نہیں۔گویه درست ہے کہ ظہور احمدیت کے وقت بظاہر اسلام کا خدا و ہی تھا اور کتاب بھی وہی اور رسول بھی وہی لیکن مرور زمانہ نے نظروں میں کچھ ایسی کبھی پیدا کر دی کہ اب نہ تو خدا وہ خدا رہا نہ کتاب وہ کتاب اور نہ رسول وہ رسول ، نام میں کوئی تبدیلی نہ تھی لیکن تصور بدل چکے تھے۔اسلام کا جو