خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 95 of 660

خطابات نور — Page 95

یا جو لوگ ناجائز مال حاصل کرتے ہیں اور رشوت وغیرہ سے کماتے ہیں پھر اپنی اس خطاکاری کے چھپانے کے واسطے اپنے نفس سے اس کے جواز کے حیلے اور عذر تراشتے ہیں اور اس کو حلال بنانا چاہتے ہیں۔اسی طرح پر ہر قسم کی بدی کو کسی نہ کسی رنگ میں اپنے لئے جائز بنانے کی فکر کرتے ہیں۔مجھے تعجب ہوجاتا ہے کہ جس قدر سعی اور فکر ان لوگوں کو ایک بدی کے جائز کرنے کے لئے کرنی پڑتی ہے اور وہ اس کوشش اور تدبیر سے جائز ہو بھی نہیں سکتی۔اگر یہ اس سے بھی آدھی کوشش اس بدی کے چھوڑنے کے لئے کریں تو یہی نہیں کہ وہ بدی ان سے چھوٹ جاوے بلکہ اس کے بدلے میں وہ ایسی نیکی کی توفیق پالیں جو ان کو اس سے زیادہ سکھ اور اطمینان دے سکے جو اس بدی سے ان کو ہرگزہرگز نہیں مل سکتا۔انسان کے نیک یا بد ہونے کا امتحان اسی وقت ہوتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کے واسطے اس کو کوئی کام کرنا پڑے۔اپنی جگہ وہ اخلاق کا پتلا بنا ہوا ہوتا ہے اور راست بازی کے لئے مشہور ہوتا ہے لیکن کوئی مقدمہ ہو تو پھر جان و مال کو اس میں لگا دیتا ہے اور دشمن کو ذلیل کرنے کے لئے ہر ایک قسم کی جائز و ناجائز حرکتوں کو روا رکھتا ہے۔غرض جس قدر انسانی فطرت اور اس کی کمزوریوں پر نظر کرو گے تو ایک بات فطرتی طور پر انسان کا اصل منشا اور مقصد معلوم ہوگی وہ ہے حصول سُکھ، اس کے لئے وہ ہر قسم کی کوششیں کرتا اور ٹکریں مارتا ہے لیکن میں تمہیں اس فطرتی خواہش کے پورا کرنے کا ایک آسان اور مجرب نسخہ بتاتا ہوں کوئی ہو جو چاہے اس کو آزما کر دیکھ لے۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس میں ہرگز ہرگز کوئی خطا اور کمزوری نہ ہوگی اور میں یہ بھی دعویٰ سے کہتا ہوں کہ جس قدر کوششیں تم ناجائز طور پر سکھ کے حاصل کرنے کے لئے کرتے ہو اس سے آدھی ہی اس کے لئے کرو تو کامل طور پر سکھ مل سکتا ہے وہ نسخہ راحت یہ کتاب مجید ہے اور میں اسی لئے اس کو بہت عزیز رکھتا ہوں اور اس وجہ سے کہ کامل مومن اس وقت تک انسان نہیں ہوتا جب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے۔میں اس کتاب کا سنانا بہت پسند کرتا ہوں۔اس کتاب مجید کی یہ پہلی سورۃ ہے اور اس میں الحمدشریف کی گویا تفسیر ہے۔بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ الحمد شریف کی تفسیر میں سے پہلی سورۃ ہے الحمد شریف کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اسماء ظاہری ، ، ، ،  سے شروع فرمایا تھا اور اس سورۂ شریفہ کو اسماء باطنی سے شروع فرمایا یعنی  جس