خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 94 of 660

خطابات نور — Page 94

ملیں گی۔قرآن شریف کا فہم چاہتے ہو تو تقویٰ اختیار کرو۔صادقوں کی صحبت میں رہو اور پھر مجاہدہ کرو وہ مجاہدہ جو اللہ تعالیٰ میں ہوکر ہو۔تم جہاں ہو اس اصل کو کبھی مت بھولو کہ ہر روز اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کا اندازہ اور امتحان کرو کہ کس قدر تم نے حقیقی نیکی کے کام کئے اور کس قدر بدیاں تم سے سرزد ہوئیں۔پھر ان بدیوں کے اسباب پر نگاہ کرو اور ان کے ترک کی فکر کرو۔نیکی کے متعلق بھی ایک عام دھوکا اور نفس کا مغالطہ بعض وقت پیدا ہوجاتا ہے۔ایک شخص ایک کام کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ نیکی کا کام ہے لیکن فی الحقیقت وہ کام اس کے لئے موجب عذاب ہوجاتا ہے۔اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ وہ خدا تعالیٰ کی مرضی اور حکم کے ماتحت نہیں ہوتا۔پس یاد رکھو کہ کوئی نیکی کبھی نیکی ہوتی ہی نہیں۔جب تک وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت اور امر کے ماتحت نہ ہو اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے موافق نہ ہو۔ان دونوں باتوں کو اخلاص اور صواب کہتے ہیں اور یہ دونوں جب تک کسی فعل میں موجود نہ ہوں وہ فعل نیکی کا فعل نہیں کہلاسکتا۔بہت سے لوگ ہیں جو خاص قسم کی نمازیں اور وظیفے پڑھتے ہیں اور ان کے ادا کرنے میں بعض اوقات وہ جماعت کی پابندی اور بروقت نماز پڑھنے سے بھی قاصر رہ جاتے ہیں۔اب نماز یا ذکر ایک عمدہ فعل تھا لیکن چونکہ وہ اپنی ذاتی تجویز کے موافق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ ثابت نہیں تو اسے کوئی نیکی کا فعل نہیں کہہ سکتے یا مثلاً صدقہ دینا اور زکوٰۃ نکالنا ایک عمدہ اور نیکی کا فعل ہے لیکن ایک اٹھتا ہے اور وہ اپنے مال سے پیران پیرکی گیارھویں نکالتا ہے۔اس لئے وہ فعل اس کا نیکی کا فعل نہ ہوگا۔اسی طرح پر بہت سی باتیں ہیں اور میں درد دل کے ساتھ کہتا ہوں کہ آج ُکل مسلمانوں میں ایسی بدعتیں اور خرابیاں بہت سی پیدا ہوگئی ہیں اور قرآن شریف کی شریعت کے مقابلہ میں ایک نئی شریعت اور نیا دین تجویز کرلیا گیا ہے اور باوجود یکہ ایسی خرابیوں اور غلطیوں میں مبتلا ہیں اور خود نئی شریعت کے مجوّز اور عامل ہیں لیکن جو کہتا ہے کہ قرآن شریف پر عمل کرو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۲؎ کی سنت کی اتباع کرو۔اسے کہا جاتا ہے کہ یہ نیا دین پیش کرتا ہے العجب ثم العجب! بہت سے لوگ اپنے دنیوی کاموں میں ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں اور جس طرح بھی ممکن ہو ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں لیکن جب ضرورت دین کا موقع ہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے ایک کام میں خرچ کرنا پڑے پھر انہیں ہزاروں ہزار عذر ہوتے ہیں وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی بہانہ سے یہاں سے بچ جاویں