خطابات نور — Page 515
موجودہ حالت: چار قومیں ہمارے سامنے ہیں۔ایک زمیندار ہیں جو صبح سے شام تک گویا مزدوری پیشہ ہیں۔ان کو کون سا وقت ملتا ہے کہ وہ قرآن مجید کو پڑھیں اور سمجھیں۔پھر امراء ہیں انہوں نے اول تو نماز چھوڑ دی ہے اگر پڑھیں بھی تو انہیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا مشکل ہورہا ہے۔گھر میں موقع مل گیا تو پڑھ لی نہیں تو نہیں۔ہاں ایسا دیکھا ہے کہ اگر کوئی افسر مال ہو اور وہ نماز پڑھنے لگے تو کم از کم ذیلدار پڑھ لیتا ہے وضو ہو یا نہ ہو۔پھر علماء اور گدی نشینوں کے قبضہ قدرت میں بڑی مخلوق ہے۔ان کا جو حال ہے اس کو دنیا خوب جانتی ہے۔ایک چیز ان کے بغل میں ہے کفر کا فتویٰ یا عورتوں کے حلالے کرنا۔اسی سے ان کا کام خوب چلتا ہے۔رہی عزت وہ جو کچھ بھی ہے لوگ خوب جانتے ہیں۔رہے گدی نشین۔میں خدا کے فضل سے دونوں میں داخل ہوں۔اللہ کا فضل دستگیری کرے توبات بنتی ہے۔کوئی سات سو برس کی بات ہے۔ایک نازک خیال فہیم کہتا ہے۔مشکلے دارم ز دانشمند مجلس باز پر س توبہ فرمایاں چراخود توبہ کمترمی کنند بڑے دانائوں اور ان کی مجلسوں کے پریسیڈنٹوںسے پوچھو مجھے تو بڑی حیرت ہے یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا کہ توبہ فرماآپ کیوں توبہ کم کرتے ہیں۔ساری کتاب میں اس سوال کا جواب نہیں دیاگیا وہاں ایک جگہ وہ چوٹ کر کے کہتاہے۔واعظاںکیں جلوہ بر محراب ومنبرمی کنند چوں بہ خلوت روند آں کار دیگر می کنند اس کو شناس سمجھتے ہیں۔اب قرآن کریم کا پڑھنا اور پھر اس پر عمل کرنا اور پھر دوسروں کو پہنچانا اور بالمقابل جب لوگ فتویٰ دیں اور توتیاں بجانے والوں کے مقابلہ میں صبر کرے تو گھاٹے میں نہیں رہتا۔یہ بھی شہر ہے اور بہت بڑا شہر ہے۔بہت مخلوق اس میں ہے یہاں مسلمانوں کے کئی گروہ ہیں۔ایک گروہ غزنویوں کے قبضہ ء قدرت میں ہے۔ایک اہل فقہ کی جماعت ہے۔کچھ حصہ ثناء اللہ کے