خطابات نور — Page 46
انبیاء و رسل کے افعال کے نمونہ پر نہ ہو۔دنیا اس وقت حضرت امام کے دعویٰ کو سن کر حیران ہو رہی ہے اورآپ کی مسیح ابن مریم کے ساتھ مماثلت کو حیرت کے ساتھ دیکھ رہی ہے لیکن مجھے تعجب ہے کہ یہ لوگ مسلمان کہلا کر ایمان بالرسل رکھ کر کیوں تسلیم نہیں کرتے کیونکہ اگر انبیاء کی بعثت سے ایک آدمی بھی ان کے رنگ میں رنگین نہیں ہوتا اور وہی خُو بُو اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا تو اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ معاذاللہ وہ محض ناکام رہا اور یہ صحیح نہیں ہے۔غرض ایمان بالرسل بھی عقائد صحیحہ میں سے ایک امر اہم ہے۔پھر عقائد میں سے ایک عظیم الشان مسئلہ جزاو سزا پر یقین کرنا ہے اس مسئلہ کے ماننے کے بغیر انسان نیکیوں کی طرف قدم نہیں اٹھا سکتا۔یہ مسئلہ حقیقت میں بہت بڑی ترقیوں کا بنیادی پتھر ہے کیونکہ جب انسان مسئلہ جزا سزا پر یقین رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میرے فلاں فعل کی جزاء یہ ہو گی اگر وہ بد ہے تو اس سے اجتناب کرے گا اور اگر وہ فعل نیک ہے تو اس کے کرنے کے لئے چست اور چالاک ہوگا یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس مسئلہ کو عقائد میں داخل کیا ہے اور میں اپنے تجربہ سے کہتا ہو کہ اگر اس اصل کو محکم طور پر دل میں جگہ دی جاوے اور اس کی حقیقت کو سمجھ لیا جاوے تو انسان کو بہت سی نیکیوں کی توفیق مل جاتی ہے اور اس ایک اصل کو چھوڑ نے اور غافل ہونے سے بہت لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔۴؎ پھر دوسرا جزو ایمان کا جس سے تکمیل ہوتی ہے شفقت علی خلق اللہ کہلاتا ہے۔مخلوق کی ہمدردی اور نوع انسان کی بھلائی کے لئے اپنے مال سے کچھ خرچ کرے۔رنج میں، راحت میں، عسر میں، یسر میں، مصیبت میں، خوشی میں ہر حال میں قدم آگے بڑھائے کسی حال میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہو اور یہ ساری باتیں اس سے پیدا ہوتی ہیں کہ صاد قوں کا ساتھ دے۔صادقوں کے ساتھ کے بغیر تقویٰ کی حقیقت کھلتی ہی نہیں، دقائق تقویٰ کا پتہ ہی نہیں لگتا جب تک انسان صادقوں کی صحبت میں نہ رہے۔یہ ایک نہایت غلط خیال ہے جو انسان اپنے دل میں سمجھ لیتا ہے کہ میں نیکی کرتا ہوں مخلوق الٰہی پر شفقت بھی کرتا ہوں۔محبّ ملک اور قوم ہوں تہجد گذار ہوں اور یقین کے اعلیٰ مقام پر کھڑا ہوں مجھے کسی صادق کی صحبت میں رہنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس قسم کا خیال نفس کا دھوکا ہے جو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے یہ ایک قسم کا برہمو ازم ہے۔(البقرۃ :۸۶)