خطابات نور — Page 45
ایمان بالرسل کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایمان صرف زبانی اقرار کا نام نہیں بلکہ اس کی حقیقت تب پیدا ہو تی ہے جب کہ اس ایمان کے موافق عمل ہو ورنہ وہ ایمان مردہ ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں۔دیکھو اونٹ کتنا بڑا جانور ہے۔لیکن اگر ایک ہزار اونٹ کی بھی ایک لمبی قطار ہو اور ان سب کی مہار ایک بچے کے ہاتھ میں دے دی جاوے تو وہ بڑی آسانی کے ساتھ ان سب کو لئے چلا جاوے گا لیکن اگر سو آدمی بھی مل کر ایک اونٹ کو کنویں میں گرانا چاہیں تو وہ گرنا پسند نہیں کرے گا اور جہاں تک اس سے ممکن ہو گا وہ اس سے بچے گا کیوں ؟ وہ جانتا ہے کہ کنواں اس کے لئے ہلاکت کا گھر ہے۔یہ ایمان کا ایک چھوٹا سا عمل ہے جو حیوان سے ہوتا ہے۔پھر کسی قدر شرم کی بات ہے کہ ہم انسان کہلا کر ان باتوں پر عمل نہ کریں جن کو ہم ایمانیا ت کی ذیل میں مانتے ہیں۔ایمان بالرسل بھی ایک عظیم الشان شعبہ ایمان کا ہے آج کل دنیا میں برہموازم بہت پھیلا ہوا ہے ہر ایک شخص اپنی ہی مرضی اور رائے کو پسند کرتا اور اسی پر عمل کرنا چاہتا ہے۔لیکن میں سچ کہتا ہو ں یہ بات اصلی ترقی کے خلاف اور صریح متضاد ہے۔جو فیوض اور برکات قوم پر بحیثیت قوم نازل ہو تے ہیں وہ انفرادی حالت میں نہیں آسکتے لیکن قوم کے لئے قوم بننے کے واسطے شخصی رائوں کو چھوڑکر ایک ہی امام کی اتباع ضروری ہوتی ہے۔پس انبیاء ورسل کی ایک بڑی غرض بعثت کی یہ بھی ہوتی ہے کہ لوگ اپنی رائوں کو چھوڑ دیں اور اس مقتدا اور مطاع کی باتوںکو مانیں اور ان پر عمل کریں اس ایک امر سے انسان کے قلب پر بڑے بڑے فیض حاصل ہوتے ہیں اور اخلاق فاضلہ اور بہت سی نیکیوں سے اسے حصہ ملتا ہے۔خود پسندی ، خود غرضی، تکبر اور انانیت جیسے رذائل سے نجات ملتی ہے۔جو اس کو صداقت کے قبول کرنے سے روکنے والے ہوتے ہیں۔انبیاء ورسل اور دوسرے ریفارمروں اور لیڈروں میں ایک عظیم الشان فرق ہوتا ہے جس کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے اور وہ یہ ہوتا ہے کہ انبیاء ورسل جس امر کی تعلیم دیتے ہیں وہ خود اپنے نمونہ سے دکھا دیتے ہیں اوراس کے نتائج اور ثمرات کا بھی مشاہدہ کرادیتے ہیں۔خیالی ریفارمر وں اور اصلاح کے مدعیوں میں یہ بات قطعاًنہیں ہوتی۔غرض ایمان بالرسل بہت بڑی ایمانی جزو ہے۔اعمال صالحہ اعمال صالحہ ہوتے ہی نہیں کیونکہ جو فعل خواہ وہ کیسا ہی نیک کیوں نہ ہو نیک نہیں کہلاتا جب تک