خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 487 of 660

خطابات نور — Page 487

نے جو سلوک اپنے مخالف لوگوں کے معبدوں سے کیا ہے وہ نہ ہوتا۔میتھالوجی کو پڑھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ مسیحی لوگوں سے پہلے کس قدر معبد تھے۔جن کا آج نام و نشان بھی نہیں۔مثلاً پڑاموں کا بڑا عظیم الشان مندر تھا۔جہاں سکندر اعظم پیادہ حج کرنے آیا تھا۔مگر آج کوئی بتا نہیں سکتا کے وہ مندر کہاں تھا؟ اس قدر تنگ دلی، ضد اور تعصب اور ہٹ اسلام پسند نہیں کرتا کہ معبد گرادیئے جاویں۔مسلمانوں نے جہاں آٹھ سو برس، ہزار اور بارہ سو برس بھی راج کیا ہے۔اس ملک کے معابد اب تک موجود ہیں اور ان کو تباہ نہیں کیا مگر بڑی روشنی سکھانے والی قوم سے پوچھیں کہ پڑاموں کا مندر کہاں تھا؟ تو نہیں بتاسکتے نشان تک مٹا دئیے بلکہ یروشلم جیسی جگہ جو بائبل میں بھی مقدس سمجھی گئی تھی۔پاش پاش کردی گئی اور وہاں سور کی قربانی کی گئی۔شاید کوئی کہہ دے کہ سور ناپاک نہیں۔مگر بائبل پڑھیں گے تو اس کے خلاف پائیں گے۔اس کے بالمقابل دیکھو کہ سپین اور فلسطین میں کیسی پُرشوکت اسلامی سلطنت تھی مگر دیکھ لو پرانے سے پرانے معبدوں کو چھیڑا نہیں بلکہ فاروق اعظم کے زمانہ میں جب وہ یروشلم تشریف لے گئے تو وہاں کے بشپ نے کہا کہ یہاں نماز پڑھ لو۔انہوں نے فرمایاکہ تم بڑے ناعاقبت اندیش ہو اگرمیں یہاں نماز پڑھ لوں تو مسلمان اس گرجے کو مسجد بنا لیںگے۔ہماری سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور نجران کے عیسائی آئے اور اتوار کا دن تھا۔آپؐ نے فرمایا میری ہی مسجد میں گرجا کرلو۔وہ لوگ رومن کیتھلک ہوں گے مگر کس حوصلہ کے ساتھ ان کو اجازت دی۔اس سے پایا جاتا ہے جہاں وہ احسان عام کرتے تھے وہاں ابقائے عام بھی ان کا مذہب تھا۔خواہ ہندوستان میں پہلی صدی ہجری میں عرب آئے اور کم از کم ساڑھے گیارہ سو سال تک اسلامی سلطنت یہاں رہی۔قصہ تو مشہور ہے کہ عالمگیر سوامن جینو روزانہ اترواکر کھانا کھاتے تھے مگر یہ الزام دینے والوں سے اگر حساب پوچھیں کہ تم حساب دان ہو۔مہربانی کرکے بتائو کہ سوامن جینو پہننے والے کس قدر انسان ہوتے ہیں اور عالمگیر کی سلطنت پر اس حساب کو پھیلائیں تو پھر ہندوستان کیا ساری دنیا کو بھی پورا کردیتے۔اس عرصہ دراز میں ہندوستان کے معابد پر اسلامی سلطنت نے کیا اثر کیا؟ ان کی موجودگی خود ظاہر کرتی ہے۔