خطابات نور — Page 488
ہاں آزادی کو نہیں روکا۔قبول مذہب میں اسلام نے آزادی کو قائم رکھا جب کہ کہا۔(البقرۃ :۲۵۷) اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے اسلام میں داخل ہوجاوے تو اس کا اختیار ہے۔پھر بھی بڑے بڑے قیود ساتھ رکھے۔ظاہر میں اگر مسلمان ہو اور دل میں نہ ہو ہم لوگ اسے منافق کہیں گے اور اس کے متعلق فتویٰ پر ہے۔(النساء :۱۴۶) ایسے لوگ کبھی کسی اعزاز اسلام میں شریک نہیں کئے جاتے۔غور کرو کیسی خطرناک قید ہے۔سوائے اس کے کہ شرح صدر سے داخل اسلام ہوں کوئی تحریک مسلمان بنانے کی نہ تھی اور میرے خیال میں تو اسلام میں داخل ہونے کے لئے کچھ روکیں بھی تھیں۔جزیہ: منجملہ ان کے ایک جزیہ ہے ناواقف لوگوں نے جزیہ پر اعتراض کئے ہیں مگر میںکہتا ہوں کہ جزیہ تو اسلام سے روکنے کا موید تھا۔جزیہ ایک ٹیکس ہے جو ہر ایسے شخص سے وصول کیا جاتا جو مسلمان نہ تھا مگر مسلمانوں کے ملک میں امن اور چین سے تجارت کرناچاہے تو جہاں مسلمانوں کو ۴۰/۱، ۲۰/۱، ۱۰/۱ اپنے اموال کا دینے کاحکم ہے وہاں اس غیر مسلم کو ۱۲ ۴ ماشہ سونے سے زیادہ نہ دینا پڑے اور حسب حیثیت کم ہوجاوے۔مسلمانوں کے مقررہ حصہ زکوٰۃ کے علاوہ اور صدقات بھی دینے پڑتے بلکہ جان بھی دینی پڑتی مگر اس قوم کو جو مسلم نہیں اپنی حفاظت جان و مال کے بدلہ میں ایک نہایت ہی خفیف ٹیکس دینا پڑے اور اس پر بھی اعتراض ہو تعجب! میں نے کہا ہے جزیہ اسلام سے روکنے کی تائید کرتا ہے۔غور کرو کہ ایک مسلمان جس کے پاس دس کروڑ ہو تو وہ پچیس لاکھ زکوٰۃ دے۔مگر جو مسلمان نہیں وہ صرف ساڑھے چار ماشہ سونا جو چھ سات روپے کا ہو دے کر مخلصی کراسکتا ہے۔اب ایک دنیادار تو یہی کہے گا کہ جزیہ دینا ضروری ہے کیونکہ مسلمان ہونے سے بڑی بھاری مالی قربانی کرنی پڑے گی اور اگر اس پہلو کو چھوڑ کر بھی جزیہ پر غور کریں تو کوئی متمدن سلطنت ایسی نہیں جو ٹیکس کو ضروری نہ سمجھتی ہو اور آج کل تو ٹیکسوں کی وہ بھرمار ہے کہ انسان حیران ہوجاتا ہے اور پھر وہ سب ضروری ہیں۔روز بروز تمدنی ضروریات کی وجہ سے رنگ برنگ کی تدبیروں سے ٹیکس لگاتے ہیں۔ہوا، مکانات، پانی پر ٹیکس، ِحرفوں پر ٹیکس‘ مکانوں پر ٹیکس، خوردنی اشیاء پر ٹیکس، گاڑیوں پر ٹیکس، کتوں پر ٹیکس، جانوروں پر ٹیکس مگر جس قدر جزیہ کو برا سمجھا