خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 437 of 660

خطابات نور — Page 437

چاہے تو لے سکتی ہے۔تو ایسے کپڑے بعض وقت ہم بیچ دیتے ہیں گو بہت ہی کم موقع ملتا ہے۔مجھے یہاں شادیاں کرنی پڑتی ہیں اور وہ مسکینوں کی ہوتی ہیں ابھی آٹھ دس نکاح ان دنوں میں ہوئے ہیں اور بجز میری ایک نواسی کے سب مساکین تھے۔ان کو کپڑے اور مختصر سے زیور دینے پڑتے ہیں ایسے اموال سے جو مساکین کے لئے آتے ہیں اسی قسم کی ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں۔میں یہ واقعات اپنی برأت کے لئے نہیں کہتا اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے میں تمہاری مدح ،مذمت ،انکار کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اس لئے سناتا ہوں کہ تم میں سے کوئی بدگمانی کر کے گنہگار نہ ہووے۔ایک عورت نے ایک مرتبہ کہا کہ کپڑوں کے کوٹھے بھر لئے ہیں کوئی حساب تو نہیں۔مجھے خیال ہوا کہ ممکن ہے اس قسم کے وہم مردوں میں بھی ہوں ایسے لوگ اگر ہوں تو توبہ کر لیں ’’عشق است و ہزار بدگمانی‘‘ میں تمہارے روپیہ کا محتاج نہیں حضرت صاحب کے وقت میں بھی ایسے اموال میرے پاس آتے تھے اور میں لے لیتا تھا۔میں تمہاری بھلائی کے لئے کہتا ہوں مجھے تم میں سے کسی کا خوف نہیں اور بالکل نہیں ہاں میں صرف خدا ہی کا خوف رکھتا ہوں۔پس تم ایسی بدگمانی نہ کرو اور توبہ کرو۔اگر ہمارا گناہ ہے ہمارے ذمہ رہنے دو اگر میں غلطی کرتا ہوں اس بڑھاپے اور اس عمر میں قرآن مجید نے نہیں سمجھایا تو پھر تم کیا سمجھائو گے؟ میری یہ حالت ہے کہ بیٹھتا ہوں تو پیر دکھی ہوتے ہیں کھڑا ہوتا ہوں تو محض اس نیت سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تھے۔میں نہیں جانتا میرا کتنا وقت ہے میں اس راہ سے ناواقف ہوں نحن اُمّۃٌ اُمِّیَّۃٌ لا نکتب لا نحسب۔میں نے ملازمت بھی کی مگر اس میں بھی گھڑی نہیں رکھی۔میں نے روٹی بھی نہیں کھائی اور اگر چائے کی پیالی بھی نہ آتی تو اس کا بھی محتاج نہیں تھا۔تمہاری بھلائی کے جوش میں میں ان چیزوں کی پرواہ نہیں کرتا۔مجھے کیا معلوم ہے کہ پھر کہنے کا موقع ملے گا یا نہیں موقع ہو تو توفیق ہو یا نہ ہو۔اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ تم کو حق پہنچا دوں۔پس میری سنو اور خدا کے لئے سنو! اسی کی بات ہے جو میں سناتا ہوں میری نہیں کہ ۔غرض تفرقہ نہ کرو