خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 425 of 660

خطابات نور — Page 425

کو چاہئے کہ الفاظ کے معانی کرنے میں محتاط رہو اور قرآن کریم کے فہم کے بعض گُر الفاظ کے معنی کرنے میں خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور قرآن شریف کے لفظوں کو مقدم کر لیا کرو۔قرآن شریف کے سمجھنے کے لئے اول قرآن شریف ہی کو پڑھو۔اس کی آیا ت دوسری جگہ متواتر معنی بیان کرتی ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ قرآن مجید جب ایک بات کہتا ہے تو بیس مقامات تک بھی اس کی تشریح کرتا ہے دس جگہ اور سات جگہ تو عام ہے۔کیونکہ سات کا عدد بھی کامل ہے۔بعض آیات ایسی بھی ہیں کہ میں ان پر سالہاسال غور کرتا رہا کہ قرآن شریف میں کہاں تشریح کی ہے اور پتا نہ ملا مگر جب خدا تعالیٰ نے وہ پردہ اٹھایا تو دیکھا کہ سوسو جگہ تک بیان کیا ہے۔پھر اس کے بعد دوسرا ذریعہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عملدرآمد میں دیکھو وہاں بھی قرآن کریم کی تفسیر ملے گی۔مثلاً صلوٰۃ اور زکوٰۃ کے الفاظ قرآن مجید میں آئے ہیں۔اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عملدرآمدتمہیں بتائے گا کہ ان الفاظ کا کیا مفہوم ہے۔ہمارے بعض دوستوں کو بھی اس قسم کا ابتلاآیا تھا۔انھوں نے کہا کہ قرآن شریف میں نماز حج وغیرہ دکھائو۔میں نے کہا کہ پہلے گھوڑے ، خچر میں امتیاز بتائو۔پھر البغال و الحمیر میں تفرقہ کر کے دکھائو میں نے ان کے لئے بہت دعا کی اور خدا تعالیٰ نے ان کو سمجھ دی اور یہ ابتلا جاتا رہا۔میں نے کہا کہ جب تم بغال اور حمیر میں فرق کرنے کے لئے ان کو دیکھتے ہو تو کیوں تم اس شخص کی نماز نہیں دیکھتے جس پر قرآن نازل ہوا؟ ایک بات میری سمجھ میں آئی ہے کہ اگر قرآن مجید میں صلوٰۃ کی تمیز ہوتی تو وہ بھی عربی میں ہوتی پھر ان لفظوں کے کئی کئی معنی کرتے اور کس قدر مشکلات پیدا ہوتیں۔پھر ایک اور نکتہ ہے۔جب میں رامپور میں طالب العلم تھا کسی مقلّد نے غیر مقلد کو کہا کہ نذیر حسین کے کیا معنی ہیں تو غیر مقلد طالب العلم نے کہا کہ اصل میں نذیرعدو حسین ہے لفظ عدو محذوف ہو گیا ہے حالانکہ نذیر ان کا نام تھا اور حسین کا لفظ باظہار قومیت شامل کر لیا گیا۔واِلّا اس طرح حذف مضاف سے عبدالنبی بھی جائز ہو جاوے کیونکہ بحذف مضاف عبد سبّ النبی ہو سکتا ہے۔اور کہیں کنایۃ وغیرہ نکال کر خد اجانے کیا کیا