خطابات نور — Page 412
البلاغ من الشاہد الی الغیب {تقریر فرمودہ ستمبر ۱۹۱۱ء} عید الفطر کے دن حضرت صاحبزادہ مرز ابشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ ربہ‘ نے خطبہ پڑھا جس میں یوم العید کی حقیقت اور فلسفہ کے ساتھ ان حکمتوں کا ذکر فرمایا جو انسان کو لہوو لعب اور ہر قسم کی مناہی سے بچانے کا ذریعہ ہوسکتی ہیں۔یہ خطبہ بعد میں انشاء اللہ العزیز درج ہوگا۔ان کے خطبہ پڑھ چکنے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح نے نہایت جوش اور جلال کے ساتھ مندرجہ ذیل تقریر فرمائی جس میں آپ نے فرمایاکہ جو نہیں سنتے ان کو پہنچا دو۔اس لئے میں اس تقریر کو بغرض ابلاغ درج کرتا ہوں اور اس کو حضرت خلیفۃ المسیح کو دکھا کر درست کرالیا گیا ہے۔خدا کرے ہم اس سے عملی رنگ میں فائدہ اٹھانے والے ہوں۔واللّٰہ یھدی من یَّشاء الٰی صراط مستقیم۔( ایڈیٹرالحکم) فرمایا: میاں صاحب نے جمعہ کے دن لطیف سے لطیف خطبہ سنایا۔وہ اور بھی الطف ہوگا اگر تم اس پر غور کرو گے۔میں اس خطبہ کی بہت ہی قدر کرتا ہوں اور میں یقینا کہتا ہوں کہ وہ خطبہ جمعہ کا عجیب سے عجیب نکات معرفت اپنے اندر رکھتا ہے۔بہت سے شریف الطبع لوگوں کو اس سے بہت سے فائدے ہوں گے مگر بعض بڑے بلید الطبع، گندے اور شریر ہوتے ہیں جو ایسی پاک باتوں سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔تم نے سنا ہے کہ میں نے کیسے سخت لفظ بولے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ابھی میاں صاحب کے خطبہ جمعہ کی خوشی سے فرصت نہیں پاچکا کہ ایک شخص نے ایک لمبا رقعہ دوسرے کی شکایت کا پیش کیا جس کو پڑھ کر میں نے کہا ہے کہ خبیث الطبع لوگ ہیں جو ایسے پاک کلام کی قدر نہیں کرتے ہیں ایسے گندے اور بد بخت خدا کے کلام کی خوبیوں پر بھی غور نہیں کرسکتے۔وہ بدبخت گندے بیمار کی طرح ہیں جن کو عمدہ اور لطیف غذا بھی گندی نظر آتی ہے۔میں نے تم لوگوں سے معاہدہ لیا ہے کہ شرک مت کرو۔شر ک کی عجیب عجیب راہیں ہوتی ہیں۔بعض لوگ مجھے دعائوں کے