خطابات نور — Page 368
مجھے شوق ہوا کہ شیعوں اور خوارج وغیرہ کی نماز دیکھوں۔صوفیوں اور محدثین کی نماز کا علم پیدا کروں۔میں نے غور سے دیکھا اور دریافت کیا مگر وہاں بھی سترہ رکعت فرض ہی پائیں۔پھر جھگڑا کیا؟ کیا روزہ، حج مکّہ اور زکوٰۃ میں؟ اس میں بھی نہیں لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں بھی نہیں۔ملائکہ پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور رسولوں قیامت اور تقدیر کو ماننے میں سب برابر ہیں۔اب اس قدر تعامل اور تواتر کے ہوتے ہوئے اگر ایک سکھ اٹھ کر کہے کہ نماز کے یہ معنے ہیں تو کیونکر قابل تسلیم ہوں گے۔میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن کریم کے ساتھ تعامل کا وجود بہت بڑی طاقت کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔(الفاتحۃ :۲) کے معنی جو ہم نے بچپن سے سیکھے ہیں۔وہ بھی اسی طرح تعامل کے نیچے چلے آتے ہیں۔اَلْ کے معنی ساری حمد تعریفیں‘ ل کے معنی واسطے‘ اللہ معنی اللہ‘ ربّ کے معنی پالنے والا‘ اَلْ معنی سارے ‘عالمین معنے جہانوں یعنی ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔آہ! لوگوں نے تعامل کا بھید نہیں سمجھا۔بچپن کا واقعہ ہے۔بخاری ہمارے گھر میں تھی۔خلاصہ کیدانی مجھے یاد کرایا جاتا تھا۔اس میں رفع سبابہ کا ذکر تھا۔مفتی محمد صادق کی والدہ کے باپ نے کہا کہ خلاصہ کی شرح ہم بھیجیں گے۔چنانچہ کالے کالے بستوں میں انہوں نے وہ شرح دی۔میرے بھائی صاحب نے اسے پڑھ کر کہا کہ رفع سبابہ کی بات تو درست ہی معلوم ہوتی ہے۔اس وقت کی کتب کا یہ حال تھا مگر اب مطبع ‘کا غذ‘ا من‘ ڈاک کا انتظام اور وی پی کا طریق دیکھ کر میں تو قربان ہو ہو جاتا ہوں۔آج اگر کتابوں کے ذریعہ یہ باتیں معلوم نہ ہوں تو تعجب نہیں مگر اس زمانہ میں جب کہ سلسلہ کتب نہ تھا تب بھی ارکانِ دین کا علم عام تھا۔میں سچ کہتا ہوں کہ نماز کی شکل روزہ حج کی شکل مخلوق سے اتنی سنی ہوگی کہ گن بھی نہیں سکتے اور یہ کہنا کہ قرآن کریم کو مقدم سمجھتے ہیں۔اس کے بھی معنے معلوم کرنے کے لئے اول تعامل ہے۔پھر لغت ہے۔یاد رکھو کہ ہمارا یہ ایمان ہے۔کوئی تحقیق و قرآن والے کوئی مکالمہ مکاشف وحی اگر تعامل کے خلاف ہو تو تیرہ سو برس کے بعد ایسے لال بجھکڑ کی بات کون مانتا ہے۔