خطابات نور — Page 369
یعنی وہی مکالمہ مکاشفہ اور وحی اب بھی قابل تسلیم ہوسکتی ہے جو قرآن کریم اور تعامل کے خلاف نہ ہو۔اب میں پھر اصل رکوع کی طرف توجہ کرتا ہوں۔اس آیت میں جاہل کا لفظ نہیں رکھا بلکہ اعمیٰ کا لفظ رکھا۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے کمالات اور عجائبات میں سے یہ بھی ہے کہ ہر دعویٰ کے ساتھ دلائل دئیے ہیںجو دوسری کتابوں میں نہیں اور یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ رسول اللہ خاتم الانبیاء ہیں۔قرآن کریم نے ہر تعلیم اور دعویٰ کے ساتھ دلائل دئیے ہیں۔اس کی اگر تشریح کروں تو بہت وقت خرچ ہوگا۔مختصراً بتاتا ہوں۔مثلاً فرمایا کہ شرک نہ کرو۔اس کی دلیل یہ دی (الاعراف :۱۴۱) یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں دوسری مخلوق پر فضیلت دی ہے۔اب وہ چیز جس کو تم خدا کے سوا معبود بناتے ہو وہ تو تمہاری خادم ہے مخدوم بھی نہیں ہوسکتی چہ جائیکہ ایسے معبود بنائو۔اب یہ کیسی روشن دلیل ہے۔دعاوی اور دعاوی کے دلائل کے آگے کیا ضرورت باقی رہتی ہے۔یہ بھی ختم نبوت کی دلیل ہے۔دنیا میں مذاہب کے تین بڑے مرکز گزرے ہیں۔ایک امر ان امیراموں برہما آسام چائنا وغیرہ کا یہ ایرانی مذہب کی شاخیں ہیں۔یورپ امریکہ افریقہ کے کنارے اور کچھ ہندوستان کے کنارے یہ عبرانیوں کی شاخ در شاخ ہیں یروشلم (ہولی لینڈ) ان کا مرکز ہے۔بت پرستی کے کمال میں عرب بھی پیچھے نہیں رہا۔یرمیا کے نوحہ میں اس کی تفصیل ہے۔واقعات بتاتے ہیں کہ وہ اپنے مذاہب کے بڑے حامی اور زبردست مؤید تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا بڑا کمال ہے کہ تینوں مرکز آپ نے فتح کرلئے۔دارالسلطنت فتح کرلینے کے بعد اگر کوئی مقابلہ کرے تو یہ مذمومی حرکت ہوتی ہے۔اگر سب کا سب فتح کرلیتے تو پچھلے آنے والوں کے لئے کیا رہتا۔بہرحال مذاہب کے مرکزوں پر کامیابی حاصل آپ ہی نے کی اور یہ ختم نبوت کی دلیل ہے۔اللہ کے لفظ پر کسی سماوی کتاب نے قرآن کے برابر زور نہیں دیا۔سب نے صفاتی نام بیان کئے ہیں۔دیانند نے سو ایک نام کہے ہیں جن میں پہلا نام اگنی بھسم کرنے والی آگ ہے اور اس میں رحم عدل دیا لتاکر پالتا کا نام بھی نہیں۔وحدہ‘ لاشریک کہاں آتا ہے مگر اللہ کا لفظ ایسا ہے