خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 319 of 660

خطابات نور — Page 319

ہیں پہلے تھوڑا سا زور لگاتے ہیں۔جب وہ اوپر چڑھتے ہیں تو پھر اس زور سے چلتے ہیں کہ بعض وقت ان کا ضبط کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور وہ اپنی طاقت سے اوپر چڑھتا چلا جاتا ہے۔دوسری حرکت نیچے کی ہوتی ہے۔جیسے ڈول کو جب کنوئیں میں لٹکاتے ہیں تو چرخی اول آہستہ پھرایسی تیز ہوجاتی ہے کہ ٹھہر نہیں سکتی۔پس میں تمہیں ابھی ابتدائی حالت میں جو پتنگ چڑھانے کی ہوتی ہے زور لگانے کو کہتا ہوں۔جب یہ اوپر چڑھے گا تو پھر تو اس کا ضبط بھی مشکل ہوجائے گا۔جس طرح پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کہا کہ اس وقت جو مٹھی بھر جوَ دے گا اس کا اجر اتنا بڑا ہے کہ آگے ایک قوم آئے جو اگر اُحد کے برابر بھی سونا دے گی تو اتنا فائدہ نہیں ہوگا۔میری جو غرضیں ہیں وہ سراسر تمہاری بہتری کے لئے ہیں۔ایک تو یہ کہ تم لوگ تعلیم حاصل کرو اور تعلیم سے میری غرض یہ ہے کہ حقائق سے آگاہی ہو اور پھر اس سے متمتع ہوجائو۔حقیقتیں دو ہیں۔ایک یہ کہ اللہ سے محبت کرو۔دوم علم کا ذوق ہو۔اس کائنات کو دیکھ کر کس طرح پر عظمت الٰہی کے لئے جوش اور شوق پیدا ہوتا ہے۔یہ ایک بڑا مضمون ہے اور یہ میرے دل میں آیا ہے۔میں اس کو اعلیٰ درجہ کا مضمون سمجھتا ہوں۔اگر موقع اور توفیق ملی تو بیان کروں گا۔میں اسی کو اصل سمجھتا ہوں۔یہ جو کچھ کہا ہے اس کی فرع ہے اور اسی میں سے نکلا ہے۔مخلوق الٰہی کی بہتری کے وسائل سوچو اور ان پر عمل کرو۔ہمت بلند رکھو اور اسی راہ پر قدم مارو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہے۔تحمل سے حِلم سے، شجاعت سے ترقی کرو۔مسئلہ تعلیم: پھر یاد رکھو کہ تعلیم بڑی مشکلات کے نیچے ہے۔ایک تعلیم ظاہری ہے۔حکومت حتی الوسع تعلیم میں دلچسپی لیتی ہے مگر تعلیمی راہ میں کچھ ایسے مشکلات آرہے ہیںکہ حکومت ہاتھ کھینچ رہی ہے۔فیس دن بدن بڑھ رہی ہے اور تعلیمی ضروریات گراں ہورہی ہیں۔میرے زمانہ تعلیم میں ایک اعلیٰ سے اعلیٰ استاد پانچ روپیہ ماہوار پر آجاتا تھا مگر اب سو روپیہ میں بھی اعلیٰ ماسٹر کے ملنے میں دقّت ہے۔اسی طرح سے اور تمدن کی مشکلات نے بھی اس راہ کو مشکل بنایا ہے۔مثلاً شادی و غمی کے معاملات کو ہی دیکھو کہ باوجود یہ کہ باپ کی جائیداد تقسیم در تقسیم ہوچکی ہے۔مگر اولاد ہے کہ اب بھی ہزار بیگھ کی پیداوار ہونے والے اخراجات کو اب دو سو بیگھ کی آمدنی پر