خطابات نور — Page 320
بھی قائم رکھنا چاہتی ہے۔غرض ظاہری تعلیم کی وہ حالت ہے۔باطنی تعلیم کو بھی اسی پر قیاس کرو۔تم لوگ کس قدر روپیہ خرچ کرکے یہاں آئے اور یہاں کے اخراجات الگ ہیں۔غرض کیا تھی۔ایک روحانی سبق کا حاصل کرنا۔پھر جو چندے ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں کہ سالانہ دو، ماہوار دو، یکمشت دو۔غرض جس رنگ میں دیکھو گرانی بڑھ رہی ہے۔شادیوں کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ تم فکر کرو اور بہت فکر کرو۔ظاہری تعلیم بھی ہمت بلند اور استقلال چاہتی ہے اور باطنی تعلیم بھی۔میں تو اس وقت بھی اپنے ماں باپ کو دعا دیتا ہوں۔وہ اس وقت بھی دو روپیہ یومیہ میری تعلیم کے لئے استاد کو دینا دو بھر نہ سمجھتا تھا اور وہ ایسی ہمت بلند رکھتے تھے کہ مدن چند نام ایک ہندو تھا جو کوڑھی ہوگیا۔وہ عالم آدمی تھا اس کو باہر جامن کی جھنگی میں رکھا گیا۔میرے والد اس کے پاس گئے اور کہا کہ میں اپنی آمدنی کا نصف تمہیں دے دوں گا۔میرے بچہ کو پڑھائو۔لوگوں نے کہا کہ کوڑھی ہوجاوے گا۔خوبصورت بچہ ہے۔کیوں اس کی زندگی کو ہلاکت میں ڈالتے ہو۔انہوں نے کہا کہ اگر مدن چند جتنا علم پڑھ کر کوڑھی ہوجاوے کچھ پرواہ نہیں۔غرض وہ اولاد کی تعلیم اور تربیت کے لئے بڑے بلند حوصلہ تھے۔میں کوئی جنازہ نہیں پڑھتا جس میں اپنے والدین کے لئے بڑی بڑی دعائیں نہیں کرتا۔میں جب خیرات کرتا ہوں تو ان کے لئے بھی کرتا ہوں۔اپنے بچوں کے لئے تم ایسے باپ بنو۔وہ ایسے بلند ہمت تھے کہ اگر وہ اس زمانہ میں ہوتے اور انہیں خبر ہوتی کہ انگریزی عمدہ چیز ہے تو وہ مجھے امریکہ بھیج دیتے۔پھر جب میں نے پڑھنے کا ارادہ کیا تو کہا کہ اول ماں کو خبر نہ دو اور دوسرے اتنی دور جائو کہ اگر ہم مرجاویں تو تمہیں خبر نہ ہو اور خبر ہو، تو جلد آ نہ سکو۔میں بخاری پڑھتا تھا جب ان کی وفات کی خبر آئی۔میں نے کہا۔مولا کریم! میں یہ باغ وقف کرتا ہوں۔غرض روحانی اور ظاہری تعلیم میں کوشش کرو۔لوگ کہتے کہ بعض نے لڑکے بھیجے اور کوئی کمزوری دیکھ کر کہا۔تعلیم اچھی نہیں ہے۔یہ غلطی ہے۔عام حالت دیکھنی چاہئے۔تعلیم میری اس غرض کا ایک شعبہ ہے اور اس کے پور اکرنے کے لئے بلند حوصلگی اور روپیہ کی ضرورت ہے۔اگر روپیہ نہیں تو دعا ہی کرو جو لوگ متموّل ہیں وہ فیاضی سے کام لیں اور مستقل مزاج ہوں۔اب