خطابات نور — Page 314
کی دکان پر گئے ہو۔وہاں، وہاں کچھ دیکھا ہے۔پہلے مجھے ان کی بات سمجھ میں نہ آئی۔آخر انہوں نے سمجھایا کہ قصائی جب گوشت کاٹتا ہے تو تھوڑی دیر کے بعد دونوں چھریوں کو باہم رگڑتا ہے۔اس سے اس کی غرض بظاہر کچھ معلوم نہیں ہوتی۔مگر ایسا کرنے سے وہ چھریاں درست رہتی ہیں۔اسی طرح پر انسان کا حال ہے۔وہ ایک دوسرے انسان کی صحبت سے اس زنگ کو دور کرلیتا ہے جو اس کے قلب پر آجاتا ہے۔اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ یہ کیسا عمدہ نکتہ معرفت ہے جو انہوں نے بتایا ہے۔بعض وقت انسان کے اندر دکھ ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کی صحبت سے وہ دور ہوجاتے ہیں۔یہ بھی یاد رکھو کہ رؤساء خواہ کتنے ہی برے ارتکاب کریں مگر بدمعاش حرام زادوں کو کبھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔یہ بہت بڑا مضمون ہے۔اس لئے اس پر زیادہ نہیں کہتا۔ششم۔واعظوں کے وعظ اور صلحاء کی کتابوں سے فائدہ ہوتا ہے۔ہفتم۔کھانے، پینے، پہننے میں بانکا پن اختیار نہیں کرنا چاہئے۔جو لڑکے بانکے لباس پہنتے ہیں۔انہیں چار خطرناک عادتیں اختیار کرنی پڑتی ہیں۔حکایت بر سبیل تذکرہ: ہمارے بھیرہ میں ایک کنچنی جوائی نام رہتی تھی۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا یہ پیشہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ایک لُچّا آدمی محلہ میں سے گزرجاوے تو ناگوار معلوم ہوتا ہے۔مگر تمہیں کوئی حس نہیں۔اس نے کہا۔قربان جائوں جو لوگ خوش خوراک ہوں‘ خوش پوشاک ہوں اور اس پر سست ہوں اگر وہ کنجر نہ بنے تو کیا کرے۔میں نے کہا۔خوب است۔یہ نکتہ بچپن میں ہم نے اس سے سنا۔یہ گویا ایک مصرعہ تھا۔اب دوسرا مصرعہ مشنری کمپونڈوں کی صورت میں معلوم ہوا کہ جو لوگ محنت کے عادی نہیں اور اچھا کھانا پہننا چاہتے ہیں۔سست اور خلیع الرسن ہیں۔وہ اتنا ہی غنیمت سمجھ لیتے ہیں کہ مشن کمپونڈوں میں روٹی ہی مل جاتی ہے۔غرض جو لوگ کھانے پینے اور پہننے میں تو غل کرتے ہیں۔آخر بڑی ہی مشکلات میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور پھر خدا پر ناراض ہوتے ہیں کہ اس نے ہمیں کیوں پیدا کیا؟ کبھی ماں باپ کو گالیاں دیتے ہیں اور پھر دوستوں پر ناراض ہوتے ہیں کہ کیوں قرضے نہیں دیتے؟ یہ خوب یاد رکھو کہ جو لوگ عمدہ کھانے پہننے اور عمدہ لباس کی فکر