خطابات نور — Page 295
کاملنااور میرے شوقوں کا پورا کرنا یہ ایک مخفی راز ہے جس کو کوئی نہیں سمجھ سکا۔مجھے نہ قرض کی ضرورت نہ سوال کی حاجت نہ چور کا ڈر نہ دھوکا باز کا خوف۔میں اس مخفی راز کو ہرگز ظاہر نہ کرتا کیونکہ صوفیوں نے منع کیا ہے مگر میں قرآن شریف کے حکم کو مقدم کرتا ہوں وہ حکم دیتا ہے۔ (الضحیٰ :۱۲)۔چندہ کیوں لیا جاتا ہے: یہاں قادیان میں چندے آتے ہیں مگر میں ان میں سے اپنے لئے ایک کوڑی کا بھی روادار نہیں ہوں بلکہ جن اغراض کے لئے وہ چندے آتے ہیں میں خود ان اغراض میں چندہ دینے والوں میں حصہ لیتا ہوں۔یہاں ایک عمارت کی ضرورت ہے میں نے اس میں چھ سو روپیہ کا وعدہ کیا ہے ابھی مجھ سے ایک امر کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے لئے میں ایک ہزار کا وعدہ کرکے آیا ہوں اور یہ میں اسی روز سے لینے والا ہوں جس سے پہلے کام چلاتا ہوں آگے میں باہر بیٹھتا تھا اور لوگ سمجھتے تھے کہ میں طب کرتا ہوں اب تم دیکھتے ہو کہ میں باہر کم آتا ہوں بلکہ دن بھر تمہارے لئے کام کرتا ہوں میں اس کا کوئی اجر تم سے نہیں چاہتا۔(الشوریٰ :۲۴)۔ہاں جس طرح پر خدا غنی ہے اور اس کا رسول بھی محتاج نہیں باوجود اس کے کہ وہ فرماتا ہے (محمد :۳۷) اور اس کا رسول کا اعلان دینے کے پھر بھی صدقہ اور زکوٰۃ کا حکم دیتے ہیں نہ خدا محتاج ہے نہ محمد رسول اللہ محتاج ہے مگر دونوں کہتے ہیں کہ دو۔اس مانگنے سے ان کی غرض کیا ہے؟ یہ کہ تمہیں کچھ دلائیں اسی طرح پر اگر میں کچھ مانگتا ہوں تو اسی لئے کہ تمہیں کچھ اور ملے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (البقرۃ :۲۴۶) یعنی جو شخص اللہ کے لئے اپنے مال کو الگ کرتا ہے ہم اس کے اموال کو بڑھا دیتے ہیں غور تو کرو کہ حضرت ابوبکرؓ نے اللہ تعالیٰ کے لئے چھوڑا کیا؟ اور لیا کیا؟ صدیقی شیخ کیا مزے اڑاتے ہیں۔حضرت علیؓ نے چھوڑا کیا اور پھر پایا کیا؟ اب تک بھی دیکھ لو کہ ان کی اولاد کس مزے میں ہے سادات کتنے ہی فسق و فجور میں مبتلا ہوں مگر لوگ ان کی عزت کرتے ہیں اور نذریں دیتے ہیں مگر یہ چندے جو تم دیتے ہو یا میرے ہاتھ میں دیتے ہو میں انہیں اپنے لئے نہیں لیتا۔