خطابات نور — Page 294
ور باقی تھوڑی رہ گئی ہے۔غرض مجھے یہاں جو چیزملی لا الٰہ الا اللّٰہ کی تکمیل اور قرآن کریم کا فہم تھا جس کو میں حاصل کرنا چاہتا تھا اور جس کے لئے میرے اندر تڑپ تھی۔اس کہانی کا مقصد: یہاں تک جو کچھ میں نے تمہیں سنایا بظاہر وہ ایک کہانی ہے مگر میں نے اس نیت سے اسے بیان نہیں کیا بلکہ میری غرض اس سے یہ تھی کہ تمہیں معلوم ہو کہ اول لا الٰہ الا اللّٰہ پر پکے رہو اس کے لئے پھر دعا ایک ذریعہ ہے اور بڑا ذریعہ ہے پھر ہمت اور استقلال سے کام لو اور چہارم قرآن شریف سے محبت کرو اور اس کے سمجھنے کی کوشش کرو تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کی کیا راہیں ہیں؟ اور جب اللہ تعالیٰ راضی ہوجاوے تو سب کچھ حاصل ہوجاتا ہے اور یہی انسان کی اصل غرض ہے کہ وہ اپنے ربّ کو راضی کرے۔سالک کے حالات: جب انسان ان راہوں کی تلاش اور طلب میں ہوتا ہے تو وہ سالک کہلاتا ہے۔حضرت سید عبدالقادر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ سالک پر کئی زمانہ گزرتے ہیں ایک وقت آتا ہے کہ اسے حکم ہوتا ہے کہ کچھ مت مانگو اور ایک وقت آتا ہے کہ مانگو اور فلاں آدمی سے مانگو۔ادھر فرشتہ اس کے دل میں ڈالتا ہے کہ اسے ذلیل کرکے نکال دو۔یہ حالت ایک خاص وقت ہوتی ہے اور وہ وہ وقت آتا ہے جبکہ کثرتِ ذکر کی وجہ سے وہ اللہ کا بندہ اپنے اندر کبریائی کو محسوس کرتا ہے۔اس وقت ان کی اصلاح اور ترقی مدارج کی یہ راہ ہے کہ ان کے لئے مانگنے کا حکم ہوتا ہے اور ادھر مخلوق کو حکم ہوتا ہے کہ اسے جھڑک کرنکال دو۔جب ایسی حالت ہوتی ہے اس کی امید اللہ تعالیٰ پر وسیع ہوجاتی ہے اور وہ پھر اسی طرف آتا ہے پھر ایک وقت حکم ہوتا ہے کہ قرضہ مانگو اور کہیں حکم ہوتا ہے کہ مت دو۔وہ کہہ دیتا ہے تم تو نکمے آدمی ہو تم کو دے کر کس سے لینا ہے۔ایسی حالتیں آتی رہتیں ہیں اور یہ سب اصلاح کے مدارج ہیں پھر ایک وقت ان پر آتا ہے کہ مخلوق سے بالکل بے نیاز ہوجاتے ہیں اور کسی کی پرواہ بھی نہیں کرتے اس لئے لکھا ہے کہ صوفی اپنے حالات اور واقعات کو ظاہر نہ کرے۔اپنی حالت: مگر میں بحمداللہ اس سرّ سے متجاوز ہوں اور میں اپنے پچھلے دراز تجربہ پر یقین کرکے کہہ سکتا ہوں کہ میری آمدنی میرا کھانا میرا پیناپہننا اور رہنے کے لئے مکان