خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 25 of 660

خطابات نور — Page 25

خوراک وغیرہ بغیر روپے کے کہاں سے آسکتی ہے تو ایسی ہی جب گھر سے ان کو روپیہ نہیں ملتا تو ان کو بڑی بڑی بدمعاشیوں اور شرارتوں سے کام لینا پڑتا ہے۔اکثر چوری کرتے چوری کرواتے ہیں۔تو چوری ایک ایسی بُری عادت ہے کہ اس کی چاٹ چھوٹنی محال ہوتی ہے۔تم نے سنا ہو گا کہ اکثر چوروں کی ساری زندگی اسی میں گزر جاتی ہے کہ چوری کی پکڑے گئے۔قیدی بنے جب میعاد گزر گئی تو پھر وہی چوری کی پھر قیدخانے کی ہوا کھانے کو چلے گئے۔غرض اسی طرح پر ان کی ساری عمر قیدخانہ میں ہی گزر جاتی ہے۔مگر وہ عادت کسی سزا وغیرہ سے چھوٹ نہیں سکتی۔دیکھ لو اسی لئے شریعت نے چور کے ہاتھ تک کاٹنے کا حکم فرمایا ہے۔یہاں تک کہ بانکے لوگوں کو کنجروں کا پیشہ اختیار کرنا پڑتا ہے کیونکہ سوائے اس کے ان کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔اب تم جانتے ہو کہ کنجروں کا دینی یا دنیوی امور ہر دو میں کیا حال ہے۔دیکھ لو اگرچہ میں آج جمعہ ہے حکم بھی ہے کہ دھلے ہوئے کپڑے پہنو، نیا جبہ پہنو اور مجھے استطاعت بھی اللہ کے فضل سے ہے مگر میں نے دیکھ لو معمولی کورے لٹھے کا پاجامہ پہنا ہوا ہے۔غرض تم کو چاہئے کہ بانکپن سے بہت بچو اور ضرور بچو۔یاد رکھو کہ ادنیٰ ادنیٰ بُرائیوں سے اعلیٰ درجے کی شرارتوں تک انسان پہنچتا ہے۔بازار کی مٹھائی کا استعمال جہاں تک ہو سکے نہایت ہی کم کرو کیونکہ یہ بھی ایک ُبری عادت ہے اور اس کا چھوٹنا بھی مشکل ہوتا ہے۔یہ بھی روپیہ چاہتی ہے تو پھر روپیہ حاصل کرنے کے سارے ُبرے وسیلے اس میں بھی استعمال کرنے پڑتے ہیں۔اس سے بھی بُرے بُرے خطرناک نتائج کا خوف ہوتا ہے اور بازار کی مٹھائی کھانے کی عادت بچوں کے لئے زہر قاتل کا اثر رکھتی ہے۔ان کے سوائے ہر ایک قسم کی بدصحبت سے بچو۔سستی، بزدلی، کم ہمتی کو اپنے دل میں جگہ نہ دو۔ہر ایک قسم کے فساد اور لڑائی جھگڑوں سے بچو اور اس کے مقابل پر نیک صحبت جو ہر ایک نیکی کی جڑ ہے اختیار کرو کیونکہ قرآن شریف فرماتا ہے کہ (التوبۃ :۱۱۹) یعنی تقویٰ اختیار کرو اور وہ اس طرح پر حاصل ہو سکتا ہے کہ صادق راست باز اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو۔قرآن شریف عمل کی غرض سے خواہ ایک دو آیت ہی کیوں نہ ہوں عمل کی غرض سے پڑھا سنا کرو۔پانچوں نمازوں کو باجماعت عمدہ طور پر ادا کیا کرو۔آپس میں اتفاق سے رہو۔لڑائی جھگڑا