خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 255 of 660

خطابات نور — Page 255

جامع و مانع عظیم الشان خطبہ سناکر اپنے کام سے سبکدوش ہوچکے۔پھر ایک اور لیکچر تیسری بار، اس کے بعد پھر اس لئے کہ آخر دارالسلطنت ہے۔آریہ کے جلسہ میں اپنی جماعت کو ایک مضمون دے کر بھیجا اور آخری ان کا حملہ جو بڑے ہی زور شور سے ہوا۔اس کا بذات خود جواب دے کر چشمہ معرفت کا منہ کھول دیا۔پھر اس پر بس نہ کی۔وہاں کے عمائدواراکین کو اپنے مکان پر بلایا اور دعوت دی اور اپنی تعلیم و دعویٰ کا نہایت ہی مدلل پیش کیا اور آخری پیغام صلح اسی لاہور میں دے کر اپنے فرائض منصبی کو پورا کردیا۔جزاہ اللّٰہ عنا احسن الجزاء۔۷۔مسیحی لوگوں کی مذہبی لڑائی میں تو آپ کا عہدہ ہی آپ کو شامل کرچکا تھا۔اس لئے اول تو دعائوں سے کام لینا ان کا اصل فرض تھا کیونکہ یہی ایک ہتھیار خصوصیت سے ان کو دیا گیا تھا۔کوئی غور کرے کہ اس چونتیس پینتیس برس میں اس قوم کے اندر کیسا خطرناک کیڑا لگا ہے کہ تثلیث یا ثالوث اور کفارہ اور الوہیت مسیح کا پہاڑ گرا کہ گرا۔اس قدر اعلان و اشتہار شائع کئے کہ اس گائوں میں ایسے عظیم الشان کام پر تعجب آتا ہے۔پھر اقوال موجہ و اصول صادقہ کا وہ مستحکم پہاڑ بنایا ہے کہ اس ذوالقرنینی سد کواب یاجوج ماجوج نہیں توڑ سکے گا۔انشاء اللہ تعالٰی۔سعدی علیہ الرحمۃ تو۔ترا سد یاجوج کفر از زرست کہہ کر اسلامیوں کی کمزوری ظاہر کرکے اپنے ممدوح کو جزیہ دینے والا کفار کا باجگزار بناتا ہے مگر اس امام نے واقعی ایک ایسی سد بنادی ہے کہ اس کا توڑنا اب انسانی کام نہیں رہا۔مثلتُ مثلاً مَیں ایک اینٹ اس دیوار کی پیش کرتا ہوں۔جنگ مقدس میں آپ فرماتے ہیں۔آسمانی کامل کتاب کا ایک نشان یہ ہے کہ وہ اپنے دعاوی اور ان دعاوی کے دلائل خود پیش کرے تو کہ اس حی قیوم کے کلام کو دوسرے کا سہارا نہ لینا پڑے۔اگر وہ کتاب اعلیٰ صداقتیں پیش کرے تو ان صداقتوں کے دلائل بھی آپ ہی دے اور اگر کسی بطلان کا بیان کرے تو وجوہ بطلان بھی اپنے دلائل نیرّہ سے بتادے۔پھر آپ نے قرآنی تعلیمات کو اس طرح تمثیلات سے دکھایا۔نیز مرزا صاحب نے بتایا کہ کامل کتاب اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں بتا کر کل کو نہ سہی مگر بعض متبعین کو تو مکالمات الٰہیہ کے شرف سے مشرف فرماوے۔ایسا خدا تو نہ بتاوے جیسا یہود کی ملامت کا باعث