خطابات نور — Page 219
کرے گی اور عمل صالح کرے گی دوگنا اجر دیں گے۔اے نبی کی بیبیو! کیا تم عام عورتوں کی طرح تو ہو نہیں جب کہ تم نے متقی بننے کا ارادہ کیا ہے تو کوئی ایسی بات نہ کرنا جس میں کسی شریر کا لحاظ پایا جاوے اور ایسی بات کہو جو بھلی اور پسندیدہ ہو اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور جاہلوں کی طرح باہر نہ نکلا کرو۔اور درست رکھو نماز کو اور ادا کرو زکوٰۃ اور اطاعت کرو خدا اور اس کے رسول کی تحقیق ارادہ کر لیا ہے خدا نے یہ کہ دور کر دے تم سے ہر قسم کی ناپاکی‘ اے گھر والو اور تمہیں پاک کرے۔اب غور کرو یہ نبی کی بیبیوں کا حکم ہے تم میں اگر ہماری امّ المومنین ہیں تو حکم پہلے ان کے لئے ہے کہ تمہارے لئے دنیا اور اس کی زینت کا ارادہ کرنا خدا کا منشاء نہیں۔جب وہ خدا اور رسول اور یوم آخرت کا ارادہ کریں گے تو خداوند ضائع نہ کرے گا اور اگر تم سے کوئی غلطی ہو گی تو دوہرا عذاب ہو گا کیونکہ ان کے چال چلن کا اثر دوسری عورتوں پر پڑے گا۔اگر وہ اپنے خاوند کے حالات پر غور نہ کریں گی اپنا نیک نمونہ دوسری عورتوں کو نہ دکھاویں گی تو بہت بڑا جوابدہ ہونا پڑے گا خدا کا منشاء ان کے لئے بھی وہی ہے جو رسول اللہ کی بیبیوں کے لئے تھا۔اب جس قدر بیبیاں ان کے ماتحت ہیں لازمی ہے کہ وہ ان کا نمونہ اختیار کریں گی۔ہماری ایک چھوٹی سی بچی ہے وہ عقل نہیں رکھتی پر ہمیں دیکھ کر کاغذ قلم دوات سے لکیریں ڈالتی رہتی ہے۔پس جب کہ انسان کی جبلّت اس طرح پر واقع ہوئی ہے تو عورتیں بھی نمونہ کی محتاج ہیں بہت سی عورتیں باہر سے آئیں اگر وہ وہی نمونہ یہاں آکر بھی دیکھیں جو ان کے اپنے دنیاوی گھروں میں ہے تو پھر وہ سست اور کاہل ہو جائیں گی پھر اگر یہاں چستی اور نیکی اور دینداری کا نمونہ دیکھیں گی تو خود بخود نمونہ بنیں گی۔پھر آپ کا چال چلن ایسا ہو کہ دوسری عورتیں اسے دیکھ کر نیکی کا نمونہ بنیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا ایک نمونہ‘ صرف ایک نمونہ سناتا ہوں۔وہ ایک ایسی بی بی کا ذکر ہے کہ حقیقت میں ہماری امّ المومنین کی ماں تھی۔سچا تقویٰ انسان حاصل کر ہی نہیں سکتا جب تک نکاح سے لباس حاصل نہ کرے کیونکہ بہت سے تعلقات اور نرمیاں اور اغماض اس رشتہ سے کرنے پڑتے ہیں۔میں نے ایک حدیث میں پڑھا ہے کہ یہ بطال لوگ جن کا کوئی رشتہ بی بی، بچہ نہیں بڑے ناقابل اعتبار ہیں۔