خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 199 of 660

خطابات نور — Page 199

لئے آسمان نے گواہی دی۔اس وقت کہ جب خدا ایک بچھڑا سمجھا گیا تھا خدا تعالیٰ نے اپنے کلام سے بتایا کہ وہ زندہ اور متکلم خدا ہے اور اس نے اپنے برگزیدہ بندہ کوبھیج کر حجت پوری کی مگر پھر بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس کی مخالفت کی جاتی اور اس کے خلاف منصوبہ بازیاں ہوتی ہیں مگر اس کی کچھ پروا نہیں یہ لوگ آخر خائب و خاسر ہونے والے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں مخالف منصوبے بناتا ہے کوشش کرتاہے سفر کر کے خرچ کر کے فتویٰ تیار کرتا ہے کہ یہ کافر ہے اورزور لگا کر کہتا ہے کہ میں اس کو گراؤں گا مگر اس کے سارے اخراجات ساری محنتیں اور کوششیں رائیگاں جاتی ہیں خود گرتا ہے اور جس کو گرانے کا ارادہ کرتا تھا وہ بلندکیا جاتا ہے جس قدر کوشش اس کے معدوم کرنے کی کی جاتی ہے اسی قدر وہ اور بھی ترقی پاتا اور بڑھتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے ارادے ہیں ان کو کوئی بدل نہیں سکتا اس کے مخالف  (الانفال:۳۷) کے مصداق ہو جاتے ہیں۔پس یاد رکھو اس وقت ضرورت ہے ایسے امام کی جو حق کا سنانے والا ، سمجھانے والا اور پھر تزکیہ کرنے والا ہو۔بڑے ہی بد قسمت ہیں وہ لوگ جو اس نور سے حِصّہ نہیں پاتے۔اللہ تعالیٰ مجھ کو اور تم کو توفیق دے کہ ہم جنہوں نے اس نور سے حِصّہ لینے کی سعی کی اور اس چشمہ کے پاس پہنچے ہیں پوری روشنی حاصل کر سکیں اور سیراب ہوں۔اور یہ ساری باتیں حاصل ہوتی ہیں جب بصیرت ،معرفت اور عقل عطا ہو۔اور یہ خدا ہی کے فضل سے ملتی ہیں۔پس جب کسی کو صادق کا پتہ لگ جائے تو ساری تجارتوں اور بیع وشریٰ کو چھوڑ کر اس کے پاس پہنچ جانا چاہیے اور (التوبۃ:۱۱۹)پر عمل کرنا ضروری سمجھا جاوے۔بعض لوگ جو یہاں آتے ہیں اور رہتے ہیں ان کو ایسی مشکلات پیش آتی ہیں جو ان کی اپنی پیدا کردہ مشکلات سمجھنی چاہییں مثلاً کوئی کہتا ہے کہ مجھے چار پائی نہیں ملی یا روٹی کے ساتھ دال ملی۔میں ایسی باتوں کو جب سنتا ہوں تو اگرچہ مجھے ان لوگوں پر افسوس ہوتا ہے جو ان خدمات کے لئے مقرر ہیں مگر ان سے زیادہ افسوس ان پر ہوتا ہے جو ایسی شکایتیں کرتے ہیں میں ان سے پوچھوں گا کہ کیا وہ اس قدر تکالیف سفر کی برداشت کر کے روٹی یا چارپائی کے لئے آتے ہیں یا ان کا مقصود کچھ اور ہوتا ہے؟ میرے ایک پیر شاہ عبد الغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ مدینہ میں رہا کرتے تھے ایک