خطابات نور — Page 180
کسی قسم کا جواب نہ دینا فراخ حوصلگی اور مرنج و مرنجاں کا ثبوت ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ مذہب کا تعلق صرف دل سے ہے ، زبا ن سے یا اعمال سے یا مال سے اس کا کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔جہاں تک نظر دوڑاؤ مخلوق کو عجیب حالت میں مبتلاپاؤ گے باوجود اس حالت کے آزادی یہاں تک ہے کہ شاکت مذہب کے متعلق تک بھی کتابیں شائع ہو گئی ہیں اور گُپَت پرکاش کے نام سے ان کے حالات ظاہر ہو گئے ہیں کوئی مذہب ایسا نہیں رہا جو اس وقت دنیا میں موجود ہو اور اس کے عقائد اور متعلقات پبلک کے سامنے نہ آئے ہوں۔جب یہ حالت ہے تو پھر میں مسلمانوں سے خطاب کر کے پوچھتا ہوں کہ (الصّف :۱۰)کا وقت کب آئے گا اور علامات اور واقعات سے اگر تم استدلال نہیں کرتے تو مجھے اس کا جواب دو کہ مذاہب مختلفہ کا ظہور تو اب ہو چکا ہے وہ رسول اس وقت کہاں ہے جس نے اسلام کو جمیع مِلَل پر غالب کر کے دکھانا ہے۔الغرض انسان کی اپنی ضرورتیں‘ پس وپیش کی ضرورتیں ‘ اعمال کا مقابلہ عقل اور فطرت کے ساتھ ‘ عقلا کی گواہیاں‘ راست بازوں کی گواہیاں ‘اپنے نفس کی گواہیاں موجود ہ ضروریا ت کیا کافی نہ تھیں یہ ثابت کرنے کے واسطے کہ یہ زمانہ امام کا زمانہ ہے۔بے شک یہ ساری شہادتیں کافی ہیں کہ یہ امام کا زمانہ ہے اور یہ سچ ہے کہ کوئی درخت جڑکے سوا، کوئی کام ایک مخزن کے سوا نہیں چلتا آخر خدا ہی کا فضل ہو ا۔۹؎ (الجمعۃ :۵) اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضلوں کا مالک ہے یہ اسی کا فضل ہے کہ وہ کس کے زمانہ میں امام ، معلّم مزکّی ، تالی بھیج دیتا ہے اور کوئی قوم کادرد مند انسان مبعوث فرما دیتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے فضل اور رحم کا ایک عظیم الشان نمونہ تھا آپ کی بعثت اللہ تعالیٰ کی رحمانی صفت کے انتہائی تقاضے کا نتیجہ تھی اسی لئے فرمایا (الأنبیآء :۱۰۸)محمد وہی ہوتا ہے جس کی تعریف کی جاتی ہے آپ کے نام ہی میں