خطابات نور — Page 176
آپ کی باتیں سنیں تو مجھے ان سے بڑا اثر ہوا۔میں نے پوچھا کہ مولویوں سے تمہیں نفرت ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے لدھیانہ میں ایک مولوی صاحب کا وعظ سنااس نے دریائے نیل کے فضائل میں بیان کیا کہ وہ جبل القمر سے نکلتا ہے اور اس کے متعلق کہا کہ چاند کے پہاڑوں سے آتا ہے میں نے اس پر اعتراض کیا تو مجھے پٹوایا گیا۔اس وقت مجھے اسلام پر کچھ شکوک پیدا ہوگئے اور میں عیسائی ہو گیا بہت عرصہ تک میں عیسائی رہا پھر ایک دن پادری صاحب نے مجھے کہا کہ ایک نئی تحقیقات ہوئی ہے دریائے نیل کا منبع معلوم ہوگیا ہے اور اس نے بیان کیا کہ جبل القمر ایک پہاڑ ہے وہاں سے دریائے نیل نکلتا ہے میں اس کو سن کر رو پڑا۔اور وہ سارا واقعہ مجھے یاد آ گیا۔ایک عیسائی نے مجھے مسلمان بنا دیا اور ایک مولوی نے مجھے عیسائی کیا۔اس وجہ سے میں ان لوگوں سے نفرت کرتا تھا مگر آپ ان میں سے نہیں ہیں۔میں سچ کہتا ہوں کہ اس کی یہ کہانی سن کر میرے دل پر سخت چوٹ لگی کہ اللہ !مسلمانوں کی یہ حالت ہے غرض اس وقت مسلمانوں کی حالت تو یہاں تک پہنچی ہوئی ہے اور اس پر بھی ان کو کسی مزکّی کی ضرورت نہیں۔۸؎ غرض یہ حالت اس وقت اسلام کی ہے اور پھر کہا جاتاہے کہ مزکّی کی ضرورت نہیں۔قرآن موجود ہے میں پوچھتا ہوں اگر قرآن ہی کی ضرورت تھی تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قرآن شریف کے آنے کی کیا حاجت تھی؟ کسی درخت کے ساتھ لٹکا لٹکا یا مل جاتا ؟ اور قرآن شریف خود کیوں یہ قید لگاتا ہے۔ (البقرۃ :۱۳۰) وغیرہ میں سچ کہتا ہوں کہ معلّم کے اور مزکّیکے بدوں قرآن شریف جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت غیر مفید ہوتا آج بھی غیر مفید ہوتا۔خدا تعالیٰ نے ہمیشہ سے یہ طریق پسند فرمایا ہے کہ وہ انبیاء ومرسلین کے ذریعہ ہدایت بھیجتاہے یہ کبھی نہیں ہوا کہ ہدایت تو آجاوے مگر انبیاء و مرسلین نہ آئے ہوں۔پس اس وقت جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں اورمختلف پہلوؤں سے میں نے دکھایا ہے ضرورتیں داعی ہو رہی ہیں کہ ایک مزکّیاور مطھّر انسان جو قرآن کریم کے حقائق ومعارف بیان کر کے اس ہدایت کو لوگوں تک پہنچا دے جو قرآن شریف میں موجود ہے یہ کام اس کا ہے کہ وہ