خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 170 of 660

خطابات نور — Page 170

الہامی کتاب کا یہ خاصہ ہونا چاہئے کہ جو دعویٰ وہ کرے اس کی دلیل بھی اسی میں ہو یعنی دعویٰ بھی وہی کرے اور دلیل بھی وہی دے مثلاً عیسائی کہتے ہیں کہ یسوع خدا ہے تو چاہئے کہ انجیل میں پہلے وہ یہ دعویٰ دکھائیں کہ یسوع خدا ہے پھر اس کے دلائل دیں مگر یہ اصل انجیل میں کہاں ؟ عیسائی مجبور ہو گئے اور ان کو اس حِصّہ کو چھوڑنا پڑا۔اس راہ پر وہ ایک منٹ بھی چل نہ سکتے تھے مباحثہ کی روئیداد موجود ہے جو چاہے دیکھ لے۔میں تو اسی وقت جب اس کے منہ سے یہ لفظ نکلا تھا سمجھ گیا اور مان چکا تھا کہ یہ کسر صلیب میں کامیاب ہو گیا۔اس اصل سے اس نے قرآن شریف کی وہ عزّت اور عظمت ظاہر کی کہ میرا ایمان ہے تیرہ سوبرس کے اندر کسی نے نہیں کی۔اس نے کل مباحثہ میں اپنے اس طرز اور اصل کو نہیں چھوڑا جو دعویٰ بیان کرتا قرآن شریف سے اور جو دلیل بیان کرتا وہ بھی کتاب اللہ سے دیتا۔اور پندرہ دن تک برابر اسی کا التزام رکھا ا ب بتاؤ کہ یہ طرز بیان مزکّیکے سوا حاصل ہو سکتا ہے میں نے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں اور میں یقیناً کہتا ہوں کہ جس قدر تم اس وقت موجود ہو تم سب سے زیادہ میں کتابیں پڑھ چکا ہوں اور کتاب میری ہر وقت کی رفیق ہے لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ اس طرز پر مباحثہ کی بنیاد کوئی نہیں ڈال سکا۔اور ایسی طرز کہ مخالف پہلا ہی قدم نہیں اٹھا سکتا جو چاہے آزما کر دیکھ لے۔میں نے تو آج بھی اس اصل سے فائدہ اٹھا یا۔ایک شخص نے اعتراض کیا میں نے اسے بھی کہا کہ اس اصل کو مدِّنظر رکھو۔مجھ پر اعتراض کیا گیا کہ روزہ کیوں رکھا جاتا ہے ؟ اور پھر رمضان ہی میں کیوں رکھا جاتا ہے؟ میں نے اس کو اولاً یہی جواب دیا کہ تم بتاؤ تمہاری کس کتاب نے منع کیا ہے کہ روزہ نہ رکھو اور پھر اس منع کے دلائل کیا دئیے ہیں۔میں تو بتاؤں گا کہ روزہ کیوں رکھنا چاہئے اور رمضان میں کیوں فرض کیا گیا اسے کچھ جواب بن نہ پڑا۔میں نے اس مضبوط اور محکم اصل کو لے کرکہا کہ دیکھو ہماری کتاب قرآن شریف روزہ کا حکم دیتی ہے تو اس کی وجہ بھی بتاتی ہے کہ کیوں روزہ رکھنا چاہیے (البقرۃ :۱۸۴)