خطابات نور — Page 169
بھی دے دیتا ؟ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ چونکہ عادل ہے اس لئے مخلوق کے گناہوں کو بحیثیت عادل ہونے کے بغیر سزا کے نہ چھوڑ سکتا تھا اور رحیم بھی ہے اس لئے بیٹے کو پھانسی دیا ؟ یہ کیا خوب عدل اور رحم ہے کہ گنا ہ گاروں کے بدلے ایک بے گناہ کو پکڑلیا اور بے گناہ پر رحم بھی نہ کیا۔پھر اور بھی ایک تعجب ہے کہ یہودیوں کو نجات نہ ملی حالانکہ پہلے۔۔۔نجات کے وہی مستحق تھے جنہوں نے نجات کے فعل کی تکمیل کی کوشش کی یعنی صلیب دلوانے کی۔ان کا فعل تو گویا عیسائیوں کے اعتقاد کے موافق خدا کے ارادہ اور منشا سے توارد رکھتا تھا پھر وہ غضب کے نیچے کیوں رہے۔پھر ہم پوچھتے ہیں کہ کیا مسلمانوں کو نجات ملی؟ کیا مجوسیوں کو ملی؟ کس کو ملی ؟ نجات تو پھر بھی محدود ہی رہی کیا فائدہ اس پھانسی سے پہنچا ؟ اور پھر شیطان کا سر جب کچلا گیا تو اب کیوں گناہ ہوتا ہے۔پھر پوچھا گیا ہے کہ گناہ کا بد اثر جسم پر ہوتا ہے یا روح پر۔اگر روح پر ہوتا ہے تو آدم سے کہا گیا کہ محنت سے روٹی کھائے گا اور عورت دردِزہ سے بچہ جنے گی۔اور اگر جسم پر پڑتا ہے تو عیسائی آتشک اور سوزاک وغیرہ امراض میں کیوں مبتلا ہوتے ہیں اور کیا عیسائی عورتیں دردِزہ سے بچہ جنتی ہیں انہیں اس سے تو معلوم ہوا کہ نجات کے آثار پائے نہیں جاتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ مزکّیکے بغیر اصلاح نہیں ہو سکتی۔ان خیالی باتوں سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔اس کفّارہ کا نتیجہ تو یہ ہوا کہ دنیا میں فسق وفجوراور اباحت پھیل گئی اور خدا کا خوف اٹھ گیا اب جس مزکّیکی ضرورت ہے وہ ایسی خاصیت اور قوت کا ہونا چاہیئے جو اس فتنہ کو دور کرے۔اور اب غور کر کے دیکھ لو کہ یہ مزکّی اپنے اس مقصدمیں کامیاب ہوا ہے یا نہیں۔ایک ایک اصل جو اس نے پیش کی ہے اس کے ذریعہ مذاہب باطلہ کو اس نے ہلاک کر دیا ہے۔ایک عیسائی نے مجھ سے پوچھا کہ اس نے آکر کیا کیا ہے میں نے کہا کہ تم کو لا جواب کر دیا ہے۔۶؎ امرتسر میں پندرہ روز تک مباحثہ ہوا اگر رحیم کریم نہ ہوتا تو ایک ہی منٹ میں ختم کر دیتا۔ایک ہی اصل اس نے پیش کی تھی جس کا جواب عیسائی اور دوسری قومیں ہر گز ہرگز نہیں دے سکتیں اور قیامت تک نہ دے سکیں گی۔پھر وہ اصل ایسی اصل نہیں ہے کہ اسے یونہی ردّ کر دیا جاوے بلکہ ہر سلیم الفطرت دانشمند انسان کو ماننا پڑے گا کہ بڑی پکّی اصل ہے اور وہ اصل یہ ہے کہ ہر مذہب کی