خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 164 of 660

خطابات نور — Page 164

اب مطالعہ کرے کہ کیا وہ اعمال ان مسلّمہ نیکیوں اور صداقتوں کے موافق ہیں یا مخالف ہیں ؟ اگر اس کی مانی ہوئی نیکیاں اور ہیں اور نیک اعمال فی نفسہٖ اور ہیں تو اس کے دل میں یہ تڑپ پیدا ہوتی کہ یہ پہلا اختلاف مٹنا چاہئے۔۴؎ پھر اس اختلاف کے بعد اگر اور بلند نظری سے کام لے تو اس کو بہت بڑا اختلاف ان لوگوں میں نظر آئے گا جو بخیال خویش وبزعم خود اکابران ملّۃ اور علماء اُمت بنے ہوئے ہیں ان کے باہمی اختلاف کو چھوڑ کر اگر خود ان کی حالت پر نظر کی جاوے تو ان کے قول اور فعل میں بُعد عظیم پایا جائے گا اسی کو زیر نظر رکھ کر ایک پارسی شاعر نے کہا ہے مشکلے دارم زدانشمندمجلس باز پرس توبہ فرمایاں چرا خود توبہ کمترمی کنند یہ واعظ یہ معلّم الخیر ہونے کے مدّعی صوفی اور سجادہ نشین چرا خود توبہ کمتر مے کنند کے مصداق ہیں۔یہاں تک تو وہ شاعر عقل و دانش کی حد کے اندر ہے اس سے اور آگے چل کر کہتا ہے۔واعظاں کیں جلوہ بر محراب ومنبر می کنند چوں بخلوت میروند آں کار دیگر می کنند یہ گواہی جو اس پارسی بان شاعر نے دی ہے کوئی مخفی شہادت نہیں بلکہ واعظوں ،صوفیوں ، سجادہ نشینوں تک پہنچی ہوئی ہے کیونکہ ان کی مجلس وعظ یا مجلس وجد وحال وقال کے لئے اس کے شعر ضروری ہیں اورہر ایک مسلمان جو کبھی کبھی اپنی مشکلات اور مصائب میں پھنس کر بے قرار ہوتا ہے تو بدقسمتی سے اسی لسان الغیب کا فال لینے کی طر ف توجہ کرتا ہے اور یوں اپنے اوپر اس دورنگی اور اختلاف کا جو واعظوں اور معلّم الخیر کے مدّعیوں میں ہے ایک گواہ ٹھہرتا اور اپنے اوپر حجت ملزمہ قائم کرتا ہے اب ان ساری باتوں کو یکجائی نظر سے دیکھو اور غور کرو کہ کیا یہ علمی اور عملی یا ایمانی اور عملی اختلاف کسی تال اور سُر کے ذریعہ مٹ سکتا ہے یا خود بخود ؟ اور قرآن شریف جو اختلاف مٹانے کا مدّعی ہے اور سچا مدّعی ہے اس نے کیا راہ بتائی ہے؟ میں بڑے درد دل سے ان مباحث اور لیکچروں کو پڑھا کرتا ہوں جو اسی زمانہ میں مسلمانوں کے تنزل کے اسباب پردئیے جاتے ہیں۔اسباب تنزل اور اسباب ترقی کے بیان کرنے میں