خطابات نور — Page 143
میں راضی برضا رہنے والے خد اتعالیٰ کے ساتھ ان کی پوری صلح ہوتی ہے۔کوئی مصیبت ، کوئی دکھ یا تکلیف ان کو اپنے مولیٰ کریم پر بد ظن نہیں کرسکتی اور ان کی ایک اور صفت یہ ہوتی ہے السائحون مطیع اور فرمانبردار یعنی اگر اعمال خالصۃً اللہ ہی کے واسطے ہیں۔ترک فعل بھی اللہ ہی کے واسطے ہو۔الراکعون نفسانی خواہشوں کو چھوڑ کر اللہ ہی کے لئے جھکنے والے ہوں اور پھر جھکنے والے بھی اس حد تک کہ الساجدون کے مرتبہ تک پہنچ جائو۔سجدہ میں زمین پر سر رکھ دیتا ہے۔اب اس سے آگے کہاں جاوے۔عبودیت کی انتہاء ہی سجدہ ہے۔جس قدر سجدہ میں جھکتا ہے اور تذلل اور انکساری اختیار کرتا ہے اسی قدر روح بلند پرواز کرتی ہے۔قالب کو دیکھو جہاں جہاں سے گرا ہوا ہے وہاں وہاں سے اس کو اونچائی نصیب ہوتی ہے۔سجدہ سے بڑھ کر اور کوئی جگہ نہیں۔گویا بتانا ہے کہ تمام نفسانی خواہشوں سے الگ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کا پورا عبد ہوگیا یہاں تک تو انسان کی اپنی ذاتی اصلاح اور درستی تھی مگر وہ انسان انسان کامل نہیں ہوسکتا جب تک وہ دوسروں کو فائدہ نہ پہنچاوے۔اسلام نے ایمان کے دو بڑے حصے اور شعبے قرار دئیے ہیں جن میں ایک تعظیم لامر اللہ اور دوسرا شفقت علیٰ خلق اللہ۔اس لئے دوسری شاخ کی سرسبزی اور تازگی کے لئے فرمایا (التوبۃ :۱۱۲) یعنی اس کمال کے بعد وہ مکمل ہونے کا درجہ پاتے ہیں اور اس مقام تک پہنچتے ہیں جہاں وہ دوسروں کو تمام بھلی باتوں کا حکم دیتے ہیں۔یہ اللہ کا فضل ہے اور کامل ہونے کے بعد ملتا ہے ورنہ ایک کامل ناپاک دوسروں کو پاک بنانے کی کیا تعلیم دے سکتا ہے۔حکم کس بات کا بالمعروف وہ پسندیدہ باتیں جن کو جناب الٰہی نے پسند کرلیا ہے۔پھر اس پربھی بس نہ کرو آگے بڑھو۔انسان کو اپنی فطرت، عادات، رسم و رواج کے خلاف کرنا بڑا ہی ناگوار ہوتا ہے۔بڑے بڑے فرمانبرداری کے مدعیوں کو جب ایک بال کے کٹوانے کے لئے کہا گیا تو بہت مشکل ہوا اور ان کو قسم قسم کے عذر کرنے پڑے۔چند روز کا تذکرہ ہے کہ ایک شخص نے لڑکی کے نکاح کے متعلق مشورہ پوچھا اور کہا چونکہ حضرت اقدس سے تعلق ہے بہتر ہے یہاں ہی ہو۔مگر میں نے کہا کہ اب پھر مگر کے بعد تو شرط کا لحاظ کیا جاوے گا، پھر مگر کیا؟ باوجود روکنے کے کہہ دیا کہ جوان ہو۔میں نے کہا کہ اگر میری لڑکی ہو اور مرزا صاحب اس کو سو برس کے بڈھے سے بیاہنا چاہیں تو ہرگز عذر نہ ہو۔