خطابات نور — Page 126
پر مقدم کرنے کی ہدایت کو وہ کیونکر پھیلا سکتے ہیں حقیقت میں وہ اس بات سے ناآشنا محض ہیں کہ باہم محبت کس طرح بڑھتی ہے۔غرض جب انسان کسی صادق کی تلاش کرتا اور اپنی اندرونی بیماریوں کو محسوس کر لیتا ہے تو اس کو خود بخود پتالگ جاتا ہے کہ جس کو میں نے صادق سمجھا ہے اس کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے مجھے ان بیماریوں کے متعلق کیا سکھ پہنچا ہے۔جیسے ایک سردی سے ٹھٹھرا ہوا انسان جب روئی سنجاب یا سمور کے کپڑے پہن لیتا ہے تو اس کو واضح طور پر معلوم ہونے لگتا ہے کہ اس کو آرام پہنچتا ہے۔اسی طرح پر روحانی بیماریوں کا مریض جب اپنے مسیح کے پاس جاتا ہے اور اس سے تعلق پیدا کرتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ مجھ سے فلاں گلی سڑی چیز اس کی اطاعت اور فرمانبرداری میں نکل رہی ہے اور یہ فائدہ پہنچ رہا ہے۔پس پہلی بات جو صادق کی شناخت کے لئے اور اس برخورداری کے لئے ضروری ہے وہ ایک قسم کی وحدت اور یکتائی ہے تا کہ خدا کا فضل جو وحدت پر نازل ہوتا ہے اس سے متمتع ہو جائو۔اس وقت بھی ایک صادق اللہ تعالی کی طرف سے آیا ہے اور تم نے اسے پہچانا ہے مگر تم اپنے اندر مشاہدہ کرو کہ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری میں کیا سکھ پارہے ہو اور کون سی بیماریاں تمہاری دور ہو رہی ہیں۔باہم مودّت پیدا کرو کیونکہ فضل الٰہی کے جذب اور کشش کے لئے پہلا اصول وحدت ہے اور سوچو کہ پہلے کن لوگوں کے ساتھ تعلق اور صحبت تھی اس کے ہاتھ پر توبہ کرنے کے بعد کیا تبدیلی ہوئی۔ایک معاہدہ ہم سے لیا جاتا ہے اور جس وقت وہ معاہدہ لیا جاتا ہے میری طبیعت گھبرا جاتی ہے ایک انسان جس کو میں پورے شعور اور کامل بصیرت کے ساتھ یقین کرتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یہ وعدہ لیتا ہے کہ میں رنج میں، راحت میں، عسر میں، یسر میں قدم آگے بڑھائوں گا اور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔میں گھبرا اٹھتا ہوں اور معاً میں سمجھتا ہوں کہ یہ فقرہ انسانی فطرت اور طبع کا نتیجہ نہیں ہے انسان یہ بات ایجاد کر سکتا ہی نہیں انسان کی ایجاد تو یہ ہے کہ خالق سے خلقت رکھنی مشکل ہے پیچھے توبہ کر لیں گے۔میاں ایہہ جگ مٹھاتے اگلا کس ڈٹھا۔میں نے گائوں کے زمینداروں کو دیکھا ہے کہ ایک دوسرے کے بدلے جھوٹی گواہی دے آتا ہے صرف اس لئے کہ ہم اس سے فلاں مقدمہ میں گواہی دلائیں گے یا فلاں مقدمہ میںاس نے