خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 114 of 660

خطابات نور — Page 114

غرض بعض لوگوں کا خدا تعالیٰ نے یہاں ذکر کیا ہے کہ وہ بتاتے ہیں ہم مومن ہیں لیکن خدا تعالیٰ کا فتویٰ ان کے متعلق یہی ہے کہ وہ مومن نہیں ہیں۔اگر ہمارے مخالف اس بات کو سمجھتے کہ ہمارے تجویز کردہ نام کوئی حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتے بلکہ حقیقت ان اسماء کے اندر ہے جو خدا تعالیٰ کا مقبول اور پسندیدہ ہے۔تو انہیں حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ کے سمجھنے میں کیا دقت اور مشکل پیش آتی تھی؟ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لاتے اور اللہ تعالیٰ کے پاک نام کا ادب ان کے دل میں ہوتا تو وہ ایک شخص کے منہ سے یہ سن کر کہ خدا نے میرا نام ابن مریم رکھا ہے اس قدر جوش غصہ سے نہ بھر جاتے۔وہ سمجھ لیتے کہ جب ہم اپنے بچوں کے نام یوسف، موسیٰ ،محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) رکھ لیتے ہیں تو کیا اللہ تعالیٰ کا اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کا نام ابن مریم رکھ لے۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ان باتوں سے محض بے خبر ہیں اور انہوں نے قرآن شریف میں کبھی غور نہیں کی۔پس ایسے لوگ جن کی نسبت خدا تعالیٰ کا فتویٰ ہے کہ وہ مومن نہیں ہیں۔انہوں نے کیا کیا ہے؟ خدا کو چھوڑ دیا ہے اور اس جماعت کو چھوڑ دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومنین کی جماعت ہے۔ان لوگوں میں نہ تاب مقابلہ ہے نہ قوت فیصلہ ہے۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا فیصلہ اور مقابلہ ابھی نہیں کرسکتے۔جبکہ ابتدا ہے جب اور ترقی ہوگی تو کب کرسکیں گے ان کا یہ مرض تو بڑھتا ہی نظر آتا ہے۔اس جھوٹ کا بدلہ عذاب الیم ہے۔اب یہ بات بڑی غور طلب ہے کہ ایک شخص بظاہر اچھے لباس میں لوگوں کے سامنے آتا ہے۔نمازی بھی نظر آتا ہے لیکن کیا اسے اتنی سی بات پر مطمئن ہو جانا چاہئے ہرگز نہیں؟ اگر اسی پر انسان کفایت کرتا ہے اور اپنی ساری ترقی کا مدار اسی پر ٹھہراتا ہے تو وہ غلطی کرتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے یہ سر ٹیفکیٹ نہ مل جاوے کہ وہ مومن ہے وہ مطمئن نہ ہو، سعی کرتا رہے اور نمازوں اور دعائوں میں لگا رہے تاکہ کوئی ایسی ٹھوکر اسے نہ لگ جاوے جو ہلاک کردے۔عام طور پر تو یہ فتویٰ اسی وقت ملے گا جبکہ سعادت مند جنت میں داخل ہوں گے اور شقی دوزخ میں۔لیکن خدا تعالیٰ یہاں بھی التباس نہیں رکھتا اسی دنیا میں بھی یہ امر فیصل ہوجاتا ہے اور مومن اور کافر میں ایک بین امتیاز رکھ دیتا ہے جس سے صاف صاف شناخت ہوسکتی ہے۔ہر ایک شخص ان آثار اور ثمرات کو جو ایمان اور