خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 105 of 660

خطابات نور — Page 105

خدا کی طرف سے قدر بڑھتی ہے اور یہ ایک مزدوری ہوتی ہے جس کا عظیم الشان اجر ملنے والا ہوتا ہے اور ان دعائوں سے حصہ ملتا ہے جو خدا تعالیٰ کا مامور خصوصیت کے ساتھ ایسے موقع پر مانگتا ہے کیونکہ وہ سب جو اس وقت موجود ہوتے ہیں۔ان دعائوں میں شریک ہوتے ہیں۔پس ایسے موقعوں پر آنا چاہئے لیکن پاک اغراض اور رضاء الٰہی کے مقصد کو ملحوظ رکھ کر نہ کسی اور غرض اور خواہش سے۔۵؎ پھر نماز میں ایک خاص قسم کا فیضان اور انوار نازل ہوتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا برگزیدہ بندہ ان میں ہوتا ہے اور ہر ایک شخص اپنے ظرف اور استعداد کے موافق ان سے حصہ لیتا ہے۔پھر امام کے ساتھ تعلق بڑھتا ہے اور بیعت کے ذریعہ دوسرے بھائیوں کے ساتھ تعلقات کا سلسلہ وسیع ہوتا ہے۔ہزاروں کمزوریاں دور ہوتی ہیں جن کو غیر معمولی طور پر دور ہوتے ہوئے محسوس کرلیتا ہے اور پھر ان کمزوریوں کی بجائے خوبیاں آتی ہیں جو آہستہ آہستہ نشوونما پاکر اخلاق فاضلہ کا ایک خوبصورت باغ بن جاتے ہیں۔یہ مت خیال کرو کہ ہم یہاں آتے ہیں اور کچھ نہیں لے جاتے ہیں بہت کچھ ساتھ لے جاتے ہیں مگر یہ لینا اپنی استعداد کے موافق ہوتا ہے۔جس جس قدر انسان اپنا دل صاف کرتا اور نیکی کے قبول کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔اسی اسی قدر وہ ان فیضانوں سے حصہ لیتا ہے۔جس طرح پر بچہ پرورش پاتا اور نشوونما پاتا ہے۔اسی طرح پر نیکیوں اوربدیوں کا بھی نشوونما ہوتا ہے۔جو شخص مامور کی صحبت میں رہ کر ایک دم میں چاہتا ہے کہ تبدیلی ہوجاوے وہ خدا سے ہنسی کرتا ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے لیکن ہم اس کا قانون قدرت اسی طرح پر پاتے ہیں کہ تدریجی ترقی ہوتی ہے۔انبیاء علیہم السلام سے بڑھ کر کون صاف دل اور پاک فطرت ہوتا ہے لیکن ان کے کمالات اور ترقیوں کے سلسلے پر اگر نظر کی جاوے تو وہ بھی تدریجی ہوتے ہیں۔اگر کمالات تدریجی نہ ہوتے تو چاہئے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یک دفعہ ہی سارا قرآن شریف نازل ہوجاتا۔تیئس برس میں کیوں نازل ہوا؟ دیکھو کسان جو دانہ زمین میں ڈالتا ہے کیا وہ دوسرے ہی دن اس کے کاٹنے کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے۔نہیں ایک اچھے خاصے عرصے تک اسے انتظار کرنا پڑتا ہے۔پھر خدا کے اس صریح اور بیّن قانون کو توڑ کر جو چاہتا ہے کہ پھونک مارنے سے ولی ہوجاوے تو وہ میری رائے میں