خطابات نور — Page 106
اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہنسی کرتا اور اسے آزماتا ہے۔اس لئے ضروری یہ بات ہے کہ انسان عرصہ دراز تک خدا تعالیٰ کے مامور کی صحبت میں حسن ظن اور ارادت کے ساتھ بیٹھے اور وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اس کے نمونہ کو اختیار کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر فضل کرے اور اس کو نیکیوں اور اخلاق فاضلہ کا وارث بناوے۔میں کسی اور کی بابت کوئی رائے نہیں دے سکتا۔اپنی نسبت کہتا ہوں اور اپنی کمزوریوں پر نظر کرکے خیال کرتا ہوں کہ میں اس گائوں سے ایک گھنٹہ کے لئے بھی باہر جانا اپنی موت سمجھتا ہوں۔بجز ایسی حالت اور صورت کے کہ مجھے حضرت امام نے حکم دیا ہو۔مجھے ان لوگوں پر تعجب آتا ہے جو سلسلہ بیعت میں داخل ہیں مگر یہاں نہیں آتے اور اگر آتے ہیں تو اس قدر جلدی کرتے ہیں کہ ایک دن رہنا بھی ان کے لئے ہزاروں موتوں کا سامنا ہوجاتا ہے۔ان کے جتنے کام بگڑتے ہیں وہ یہاں ہی رہ کر بگڑتے ہیں جتنے مریض ہوتے ہیں وہ یہاں ہی رہ کر ہوتے ہیں۔ہزاروں ہزار عذر کرتے ہیں۔یہ بات مجھے بہت ہی ناپسند ہے۔مجھے ایسے عذر سن کر ڈر لگتا ہے کہ ایسے لوگ (الاحزاب:۱۴) کے الزام کے نیچے نہ آجائیں۔پس جب یہاں آئو تو امام کی صحبت میں رہ کر ایک اچھے وقت تک فائدہ اٹھائو۔کسل اور بُعد اچھا نہیں ہے۔خدا کرے ہمارے احباب میں وہ مزہ دار طبیعت پیدا ہو جو وہ اس ذوق اور لطف کو محسوس کرسکیں جو ہم کررہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ستّارہے اور جب تک کسی کی بدیاں انتہا تک نہ پہنچ جاویں اور (البقرۃ :۸۲) نہ ہوجاوے اور حد سے تجاوز نہ کرجاوے خدا تعالیٰ کی ستّاری کام کرتی ہے بعد اس کے پھر سزا کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اس لئے اس سے پہلے کہ تمہاری بدیاں اور کمزوریاں اپنا اثر کرچکیں اور یہ زہر تمہیں ہلاک کردے۔اس کی تریاق توبہ کا فکر کرو۔اسلام ایسا پاک مذہب ہے کہ اس نے کونفیشن (confession ) جیسی گندی تعلیم نہیں دی کہ پوپ کے سامنے انسان اپنی تمام بدیوں اور بدکاریوں کا اقرار کرتا ہے۔اسلام نے اس کے بالمقابل توبہ کا پاک مسئلہ رکھا ہے۔جس میں انسان اپنے مولیٰ کریم کے حضور اپنے درد دل کا اظہار کرتا ہے اور خاص اسی کے حضور کہتا ہے جو کچھ کہتا ہے۔ملائکہ تک کو اس میں شرکت کا موقع نہیں دیتا۔