خطابات نور — Page 98
وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو مول لے لیا ہے۔پس ان کی تجارت ان کے لئے سود مند تو نہ ہوگی اور وہ کب بامراد ہوسکتے تھے۔ان لوگوں کی پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ زبان سے تو ایمان باللہ اور یوم الاٰخر کی لاف و گزاف مارتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کا فیصلہ ان کے حق میں یہ ہے (البقرۃ :۹) اس سے ایک حقیقت کا پتہ لگتا ہے کہ انسان اپنے منہ سے اپنے لئے خواہ کوئی نام تجویز کرلے اس نام کی کوئی حقیقت پیدا نہیں ہوسکتی جب تک آسمان پر کوئی مبارک نام نہ ہو اور یہ امر اس وقت پیدا ہوتا ہے جبکہ انسان اپنے ایمان کے موافق اعمال بنانے کی کوشش کرے۔ایمان جب تک اعمال کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا کوئی سودمند نہیں ٹھہر سکتا اور اگر نِرا ایمان رکھ کر انسان اعمال اس کے موافق بنانے کی کوشش نہ کرے تو اس سے مرض نفاق پیدا ہوتا ہے۔جس کا اثر آخر یہاں تک ہوجاتا ہے کہ نہ قوت فیصلہ باقی رہتی ہے اور نہ تاب مقابلہ۔ان لوگوں کے دوسرے آثار اور علامات میں سے بیان کیا کہ وہ مفسد علی الارض ہوتے ہیں اور جب ان کو کہا جاتا ہے کہ تم فساد نہ کرو تو وہ اپنے آپ کو مصلح بتاتے ہیں حالانکہ وہ بڑے بھاری مفسد ہوتے ہیں۔اس طرح پر کی ایک تفسیر ختم کردینے کے بعد پھر اس سورہ میں فرمانبرداری کی راہوں کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ فرمانبرداری اختیار کرنا انسان کی اصل غرض اور مقصد ہے اور یہ بتایا ہے کہ حقیقی راحت اور سکھ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہے اور فرمانبرداری کے راہوں کے بیان کرنے میں قرآن کریم کا ذکر فرمایا۔جس سے یہ مراد اور منشا ہے کہ قرآن کریم کو اپنا دستور العمل بنائو اور اس کی ہدایتوں پر عمل کرو۔پھر اس بات کی دلیل پیش کی ہے کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور ایک زبردست تحدّی کی ہے کہ اگر کسی کو اس کے منزّل من اللّٰہ ہونے میں شک ہو تو وہ اس کی نظیر لاوے۔پھر منعم علیہم قوم میں سے آدم علیہ السلام ابو البشر کا ذکر کیا اور بتایا کہ راست بازوں کے ساتھ شریروں اور فساد کرنے والوں کی ہمیشہ سے جنگ ہوتی چلی آئی ہے اور آخر خدا کے برگزیدے کامیاب ہوجاتے ہیں۔پھر مغضوب اور الضّال کا ذکر کیا ہے۔بالآخر ابوالملۃ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر فرمایا اور اس کی فرمانبرداری کو بطور نمونہ پیش کیا کہ اس کی راہ اختیار کرکے انسان برگزیدہ ہوسکتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فیوض و برکات کو حاصل کرلیتا ہے۔پھر نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کی