خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 97 of 660

خطابات نور — Page 97

ہوتا ہے؟ ان کے عام نشانات میں سے بتایا کہ یہ وہ گروہ ہے جو تیرے انذار اور عدم انذار کو برابر سمجھتا ہے اور چونکہ وہ وجود و عدم وجود کو برابر سمجھتے ہیں اس لئے باوجود دیکھنے کے وہ نہیں دیکھتے اور باوجود سننے کے نہیں سن سکتے۔دل رکھتے ہیں پر نہیں سمجھ سکتے۔ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ (البقرۃ :۱۱) بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ جو شخص آنکھ رکھتا ہے کیوں نہیں دیکھتا، کان رکھتا ہے کیوں نہیں سنتا؟ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ نتیجہ ہے ایسے لوگوں کے ایک فعل کا۔وہ فعل کیا ہے؟ انذار اور عدم انذار کو مساوی سمجھنا۔اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص انگریزی زبان کو پڑھنے یا نہ پڑھنے کو برابر سمجھے تو وہ اس کو کب سیکھ سکتا ہے۔اس صورت میں وہ اس زبان کی اگر کسی کتاب کو دیکھے تو بتائو اس دیکھنے سے اسے کیا فائدہ؟ اگر کسی دوسرے کو پڑھتے ہوئے سنے تو اس سننے سے کیا حاصل؟ دیکھو وہ دیکھتا ہے اور پھر نہیں دیکھتا ہے۔سنتا ہے اور پھر نہیں سنتا۔اسی طرح پر جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مامور و مرسل کے انذار اور عدم انذار کو برابر سمجھتے ہیں تو وہ اس سے فائدہ کیونکر اٹھا سکتے ہیں کبھی نہیں۔جب ایک چیز کی انسان ضرورت سمجھتا ہے تو اس کے لئے سعی اور مجاہدہ کرتا ہے اور پھر اس مجاہدہ پر ثمرات مترتب ہوتے ہیں لیکن اگر وہ ضرورت ہی نہیں سمجھتا تو اس کے قویٰ میں مجاہدہ کے لئے تحریک ہی پیدا نہیں ہوگی۔یہ بہت ہی خطرناک مرض ہے۔جو انسان رسولوں اور اللہ تعالیٰ کے ماموروں اور اس کی کتابوں کے وجود اور عدم وجود کو برابر سمجھ لے۔اس مرض کا انجام اچھا نہیں بلکہ یہ آخرکار تکذیب اور کفر تک پہنچا کر عذاب الیم کا موجب بنا دیتا ہے۔پس تلاوت کرنے والے کو پھر اس مقام پر سوچنا چاہئے کہ کیا میں خدا کے رسول و مامور کے انذار اور عدم انذار کو مساوی تو نہیں سمجھتا؟ کیا میں اس کی باتوں پر توجہ تام کرتا ہوں اور کان لگا کر سنتا ہوں اور سوچتا ہوں؟ انذار و عدم انذار کے مساوات کی یہی صورت نہیں ہوتی جو آدمی زبان سے کہہ دے بلکہ اگر رسول کے فرمودہ کے موافق عمل نہ کرے تو یہی ایک قسم کا انذار اور عدم انذار کی مساوات ہے۔۳؎ پھر  کی تفسیر بیان فرمائی کہ یہ لوگ کون ہوتے ہیں۔سورۃ فاتحہ میں جو دعا تعلیم کی تھی اس میں ضالّین کی راہ سے بچنے کی دعا تھی اور یہاں ان لوگوں کے حالات بتائے کہ وہ کون ہوتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور ہوتا ہے۔اسی لئے فرمایا (البقرۃ :۱۷) یعنی یہی