خطابات نور — Page 96
کے معنی ہیں اَنَا اللّٰہُ اَعْلَمُ پھر الحمد شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایک کامل دعا تعلیم فرمائی تھی۔(الفاتحہ :۶،۷) یعنی ہم کو اقرب راہ کی جو تیرے حضور پہنچنے کی ہے راہنمائی فرما۔وہ راہ جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہوا یعنی نبیوں، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحوں کی راہ۔سورۃ فاتحہ میں یہ دعا تعلیم ہوتی ہے لیکن اس سورئہ بقرہ میں اس دعا کی قبولیت کو دکھایا ہے اور اس کا ذکر فرمایا جبکہ ارشاد الٰہی یوں ہوا۔(البقرۃ :۳) یہ وہ ہدایت نامہ ہے یعنی متقی اور بامراد گروہ کا ہدایت نامہ ہاں گروہ کی راہ یہی ہے۔پھر منعم علیہ گروہ کے اعمال و افعال کا ذکر کیا اور ان کے ثمرات میں (البقرۃ :۶) فرمایا ان کے افعال و اعمال میں بتایا کہ وہ اَلْغَیْب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وحی اور کلام اور سلسلہ رسالت پر ایمان لاتے ہیں۔جزاوسزا پر ایمان لاتے ہیں۔یہ منعم علیہ گروہ کی راہ ہے۔اب ہر ایک شخص کا جو قرآن شریف پڑھتا ہے یا سنتا ہے یہ فرض ہے کہ وہ اس رکوع سے آگے نہ چلے جب تک اپنے دل میں یہ فیصلہ نہ کرلے کہ کیا مجھ میں یہ صفات یہ کمالات ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو وہ مبارک ہے اور اگر نہیں تو اسے فکر کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں مانگنی چاہئیں کہ وہ ایمان صحیح عطا فرماوے (البقرۃ :۴)دراصل عقائد صحیحہ کو مشتمل ہے اور (البقرۃ :۵) مسئلہ رسالت اور الہام و وحی کے متعلق ہے اور (البقرۃ :۵)جزاوسزا کے متعلق ہے۔پھر ان اعمال و افعال کے ثمرات میں (البقرۃ :۶)بتایا ہے۔اگر انسان حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے اور بامراد ہورہا ہے تو اسے خوش ہونا چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے منعم علیہ گروہ کے زمرہ میںشامل ہے لیکن اگر نہیں تو پھر فکر کا مقام اور خوف کی جا ہے۔پس قرآن کریم کی تلاوت کی اصل غرض یہی ہے کہ انسان اس پر عمل کرے۔منعم علیہ گروہ کے ذکر کے بعد پھر بتایا کہ کون لوگ ہیں ان کے کیا نشانات ہیں؟ اور ان کا انجام کیا