خطابات نور — Page 92
قرآن شریف کے حقائق قرآن شریف کی صداقتیں اس کی اعلیٰ تعلیم اور معرفت کی باتیں کوئی گو رکھ دھندا نہیں ہیں جو کسی کو معلوم نہ ہوں۔نہیں بلکہ ہر شخص اپنے ظرف اپنے عزم و استقلال اور محنت و مساعی کے موافق اس سے فائدہ اٹھاتا ہے خود اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کردیا ہے۔(العنکبوت :۷۰) جو لوگ ہم میں ہوکر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں یقینا یقینا کھول دیتے ہیں۔یہ بالکل سچی بات ہے مولیٰ کریم تو اس وقت ہر متنفس کو یہ حقائق اور صداقتیں دکھا دیتا ہے جب وہ خدا تعالیٰ میں ہوکر کسی صداقت کے پانے کے لئے اضطراب ظاہر کرتا اور اس کے لئے سچی تلاش کرتا ہے۔بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو مجاہدہ تو کرتے ہیں لیکن وہ مجاہدہ خدا میں ہوکر نہیں کرتے بلکہ اپنی تجویز اور عقل سے کوئی بات تراش لیتے ہیں اور جب اس میں ناکام رہتے ہیں تو پھر کہہ دیتے ہیں کہ ہم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔یہ اس کی اپنی غلطی اور کمزوری ہے اور وہ الزام خدا تعالیٰ اور اس کی پاک کتاب پر رکھتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ قرآن شریف کا علم صرف و نحو کی کتابوں کے رٹنے پر موقوف نہیں ہے۔بدیع و معانی قرآنی علوم و حقائق کے لئے لازمی طور پر پڑھنے ضرور نہیں ہیں یا دوسرے علوم کے بغیر قرآن شریف کا سمجھ میں آنا ناممکن نہیں ہے۔یہ خیالی باتیں ہیں اس قدر تو میں بے شک مانتا ہوں کہ جس قدر علوم حقّہ سے انسان واقف ہوگا اور ان علوم میں جو قرآن کریم کے خادم ہیں دسترس رکھتا ہوگا وہ اس کے فہم قرآن میں ایک ممدومعاون ہوں گے لیکن اسی صورت میں کہ اس کا مجاہدہ مجاہدہ صحیح ہوگا۔مجاہدہ صحیحہ کی تشریح بہت بڑی ہوسکتی ہے مگر مختصر طور پر یاد رکھو کہ قرآن شریف پڑھو اس لئے کہ اس پر عمل ہو۔ایسی صورت میں اگر تم قرآن لکھوا کر اس کا عام ترجمہ پڑھتے جائو اور شروع سے اخیر تک دیکھتے جائو کہ تم کس گروہ میں ہو کیا مُنْعَمْعَلَیْھِمْ ہو یا مغضوب ہو یا ضالّین ہو اور کیا بننا چاہئے۔منعم علیہم بننے کے لئے سچی خواہش اپنے اندر پیدا کرو پھر اس کے لئے دعائیں کرو۔جو طریق اللہ تعالیٰ نے انعام الٰہی کے حصول کے رکھے ہیں ان پر چلو اور محض خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے واسطے چلو۔اس طریق پر اگر صرف سورۃ فاتحہ ہی کو پڑھ لو تو میں یقیناً کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے نزول کی حقیقت کو تم نے سمجھ لیا اور پھر قرآن شریف کے مطالب و معانی پر تمہیں اطلاع دینا اور اس کے حقائق و معارف سے بہرہ ور کرنا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور ایک صورت ہے